عبدالمنان سلفیؔ
ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری
کی خدمات کو خراج تحسین
۲۰۰۹ء میں ملت وجماعت کو جن گراں قدراور عظیم علمی و دعوتی شخصیتوں کی وفات کا غم سہناپڑا ان میں مفکرجماعت استاذمحترم جناب ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت کاسانحۂ وفات سب سے غم انگیز،دل فگاراور افسوس ناک رہا کہ آپ کے اٹھ جانے سے علم و ادب کی مجلسیں سونی ہوگئیں، دعوتی، تدریسی، تصنیفی اور صحافتی میدانوں میں زبردست خلا پیدا ہوگیا اورملت کو ناقابل تلافی خسارہ سے دوچار ہونا پڑا، اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت فرمائے اور آپ کی جملہ خدمات کو شرف قبول عطا فرماتے ہوئے آپ کے درجات بلند کرے، آمین۔
ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری کی شخصیت بڑی ہمہ گیر اور ان کی خدمات بڑی متنوع اورہمہ جہت تھیں، علمی اورادبی دنیا میں ان کا نام بڑا معتبر اور محترم ماناجاتا تھا اوراہل علم کے دلوں میں ان کی بڑی قدرومنزلت تھی، تدریس وتربیت سے لے کر تصنیف وتالیف، ترجمہ وتحقیق ،صحافت وانشاء پردازی اورانتظام وانصرام تک موصوف نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اپنی صلاحیت وقابلیت کالوہا تومنوایا ہی ، ہرمیدان میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی اورچالیس بیالیس سال کی عملی زندگی میں ان میدانوں میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دئے جن کی مثال عصرحاضر کے علماء میں نایاب نہ سہی تو کمیاب ضرورہے، موصوف بیک وقت کہنہ مشق مدرس، مشفق مربی، منجھے ہوئے صحافی وقلم کار، اور تحقیقی وادبی ذوق سے سرشار اعلیٰ پایہ کے مصنف ومترجم تھے، یہ تمام خوبیاں ایک ساتھ کسی ایک شخص کے اندرمشکل سے جمع ہوتی ہیں، اورسچی بات تویہ ہے کہ انھیں اوصاف و اعمال نے آپ کو عبقری اور نابغۂ روزگار بنادیا۔
جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر(نیپال) کا تعلق شہربنارس، اہالیان بنارس،جامعہ سلفیہ، ذمہ داران جامعہ اور اساتذۂ جامعہ خصوصاً ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ سے بڑا قدیم اورگہرا رہاہے، جامعہ سراج العلوم کے سابق ناظم خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ نے جامعہ رحمانیہ بنارس میں اپنے زمانۂ طالب علمی کے چند برس گذارکر مولانا محمد منیرخاں بنارسی اور قاری احمد سعید بنارسی رحمہما اللہ جیسے یگانۂ روزگار علماء و فضلاء سے کسب فیض کیاہے اور دارالحدیث رحمانیہ دہلی سے فراغت کے بعدکئی سال تک اپنے مادر علمی جامعہ رحمانیہ میں تدریسی خدمت انجام دیتے ہوئے ملا حسن،شرح تہذیب اور دیوان متنبی جیسی اہم اور فنی کتابوں کا درس دیا ہے، اس کا تذکرہ علامہ جھنڈانگری نے اپنے ایک خود نوشت میں کیا ہے اور اپنے نامور تلامذہ میں مولانا محمد یحیٰ ،مولانا محمد الیاس ،مولانا محمد موسی،مولانا عبید الرحمن اور مولانا عبد العظیم کے اسماء بہ طور خاص ذکرفرمائے ہیں،(ماہنامہ السراج ،خطیب الاسلام نمبر ص ۴۱۱)
اسی طرح یہ تاریخی حقیقت بھی ہے کہ علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ کے محرک اول اور اس کے مؤسسین میں سے تھے،اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ہی نے نوگڈھ کانفرنس منعقدہ ۱۹۶۱ء میں اپنے خطبۂ استقبالیہ کے اندر اس کی پرزور تحریک فرمائی تھی اور جماعت کو ایک مرکزی تعلیمی ادارہ کے قیام کی ضرورت کا احساس دلایا تھا، چنانچہ آپ نے اپنے تحریری استقبالیہ خطبہ میں لکھا تھاکہ:
’’ ایک ایسا مرکزی دارالعلوم بھی قائم کیا جانا ضروری ہے جس کے تعلیم یافتہ افاضل ملک و ملت کی خدمت اور اس کی بہترین رہنمائی کی اہلیت و صلاحیت سے بہرہ ور ہوں‘‘
پھر اس کی افادیت و اہمیت اور ضرورت کا ذکر کرتے آپ نے آگے مزید لکھا کہ:
’’اس لئے ایک ایسے مرکزی دارالعلوم کی ضرورت ہے جہاں کی تعلیم و تربیت سے طلبہ مزید اختصاص و امتیاز اور ایسے اوصاف حاصل کریں کہ ملک و ملت کی خدمت و رہنمائی کے قابل بن سکیں، صدر محترم سے گذارش ہے کہ ایسے دارالعلوم کے قیام کے مسئلہ پر ہر ممکن توجہ دے کر اس کے لئے اقدام فرمائیں‘‘ ۔
اس حوالہ سے خطیب الاسلام رحمہ اللہ نے اپنے ایک تحریری انٹرویو میں فرمایاکہ:
’’ میری اس گذارش کایہ اثرہوا کہ دوسرے دن نوگڈھ کانفرنس ہی میں جو میٹنگ ہوئی اس میں فوری طور پر ایک مرکزی درسگاہ کے قیام کی منظوری متفقہ طور پر ہو گئی‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۴۳۹)
جامعہ سلفیہ بنارس کے موجودہ ناظم مولانا عبد اللہ سعود سلفی نے خطیب الاسلام کی وفات پربھیجے گئے اپنے تعزیتی خط میں اس حقیقت کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے اور مولانا جھنڈانگری کے جامعہ سلفیہ سے اس تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مولانا کا اہل بنارس سے بہت پرانا ربط تھا، وہ جامعہ سلفیہ کے مؤسسین میں سے تھے، نوگڈھ کے اجلاس میں آپ نے خطبۂ استقبالیہ میں جس طرح سے ایک مرکزی ادارہ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے وہ آپ کے جماعتی درد اور اصلاح و ترقی کی تڑپ کی غماز ہے، مولانا کاجامعہ سے دلی لگاؤ تھا اور وہ اسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۶۱۵)
جامعہ سلفیہ بنارس کے وکیل الجامعہ اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ نے بھی خطیب الاسلام پر لکھے گئے اپنے گراں قدر مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے بلکہ ’’مرکزی دارالعلوم سے خطیب الاسلام کا تعلق‘‘کے عنوان سے اس ربط و تعلق کو اجاگر فرمایا ہے، موصوف جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام میں نوگڈھ کانفرنس اور اس کے خطبۂ استقبالیہ کے کردارکا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہیں سے عملی طور پر مرکزی درس گاہ کے وجود و ترقی میں آپ کی حصہ داری شروع ہوئی اور حیات مستعار کے اختتام تک یہ سلسلہ جاری رہا، اہل حدیث کانفرنس کے اپنے اجتماعات اور قیام کے بعد جامعہ سلفیہ کے اجتماعات میں بالالتزام آپ کی شرکت ہوتی تھی اور آپ کی گفتگو اور مشوروں سے یہ اجتماعات کامیاب ہوتے تھے، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی دارالعلوم سے تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے، حتی کہ صحت کی بعض مجبوریوں کے باوجود آپ دارالعلوم کے اجتماعات میں برابر شریک ہوئے اور ہر موقع پر ادارہ کی بہی خواہی کو مقدم رکھا، بیرون ملک آپ سے ملاقات کے مواقع حاصل رہے، وہاں بھی آپ نے ہمیشہ ادارہ (جامعہ سلفیہ)کے مفاد کو مقدم رکھا، مجلس منتظمہ کی میٹنگ میں شرکت کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے بنارس تشریف لاتے تو دارالعلوم میں اساتذہ و طلبہ کو خطاب فرماتے اور نام لے لے کر لوگوں کی تعریف کرتے اور طلبہ کو استفادہ کی تلقین کرتے، یہاں سے شائع ہونے والے اردو مجلہ کو آپ کا قلمی تعاون برابر حاصل رہا اور بعض بے حد اہم مضامین بھی آپ نے پرچہ کو مرحمت فرمائے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۳۷)
جامعہ سلفیہ کے قیام کے فیصلہ کے بعداس کی تعمیر وترقی میں بھی مولانا جھنڈانگری نے زبردست عملی جدوجہد فرمائی ہے اوربجٹ کی فراہمی کے سلسلہ میں کئی دورے کئے ہیں،چنانچہ مولانا نے اپنے تحریری انٹرویو میں خود لکھا ہے کہ:
’’میں نے اور مولانا عبد الجلیل رحمانی نے جو پانچ ہزار(۱۹۶۳ء میں یہ ایک خطیر رقم تصور کی جاتی تھی) دینے کا عہد کیا تھا اپنے وقت پر پورا کردیا تھا،سخت گرمیوں میں ہم لوگ رکشہ پر نکلتے تھے اور جہاں کہیں سڑک پر نل مل جاتا رکشے سے اتر کر پانی پیتے اور پھر آگے بڑھ جاتے ، ایسے ہی سفر کرتے رہے، کئی روز سفر کر کے ہم لوگوں نے پانچ ہزار کی رقم اکٹھا کی اور ناظم جامعہ کے پاس بھیج دیا، اس کے علاوہ کئی مقامات پر مولانا عبد الوحید صاحب ناظم مرکزی دارالعلوم کے ساتھ چندہ کے لئے میں نکلا، جہاں ہم لوگ پہنچتے وہاں تقریر کا پروگرام ہوتا، تقریر کے اختتام پر میں چندہ کی تحریک کرتا اور مولانا عبد الوحید صاحب ناظم جامعہ چندہ کا استقبال کرتے، الحمد للہ اسی وقت دارالعلوم کے لئے اچھا خاصا چندہ جمع ہوگیا تھا‘‘(ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ۴۳۹)۔
جامعہ سلفیہ کے قیام کے بعددسیوں برس تک خطیب الاسلام علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ کی مجلس شوریٰ کے ممبربھی رہے، اوراس کی میٹنگوں میں پوری پابندی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، ان تمام حوالوں سے ان کا بنارس آنا جاناکثرت سے ہوتاتھا، رؤساء مدن پورہ بھی آپ کی بڑی قدرکرتے تھے، ناظم جامعہ مولاناعبدالوحید سلفی، الحاج محمدصدیق، مولانا محمدیحی بنارسی ،مولانامحمدزبیراورمولانا عبدالقدوس نسیمؔ بنارسی رحمہم اللہ جیسے مخلص اورذمہ دارقسم کے لوگ خصوصاً مولاناجھنڈانگری کی بیحد توقیر وتکریم فرماتے تھے۔
۱۹۷۷ء میں خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ جب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس تأسیسی کے رکن منتخب ہوئے اورعرب دنیا سے آپ کا رابطہ مستحکم ہواتواپنے مضامین ،رپورٹس و تقاریر ا ور خطوط ورسائل کی تعریب کے لئے آپ نے ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ سے مددلی، مولاناجھنڈانگری باوجویکہ مختلف علوم وفنون کے ماہر تھے اوراردومیں ان کا قلم بڑا سیال تھا تاہم خاص ماحول اور مشق ومزاولت کے فقدان کے سبب فصیح وبلیغ عربی لکھنے پر قادر نہ تھے، اس لئے جب انھیں کوئی اہم خط لکھنا ہوتا یا کسی خاص موضوع پرانھیں تقریر ورپورٹ پیش کرنی ہوتی تواس کی تعریب کے لئے خودجامعہ سلفیہ تشریف لے جاتے اورڈاکٹر ازہری صاحب کی خدمت میں اپنا مدعا پیش فرماتے، ازہری صاحب خطیب الاسلام کے بڑے قدرداں تھے اوران کا غایت درجہ احترام واکرام فرماتے، اپنے ضروری کاموں کو چھوڑکر خطیب الاسلام کے خطوط ورسائل اور دیگرچیزوں کی خود تعریب کرتے اور پھرانھیں اپنے ہاتھ سے ٹائپ کرتے یا کمپوز کراتے، تعاون باہمی کا یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا، کم ازکم ۱۹۸۲ء تک تواس کا مشاہدہ میں نے خود کیاہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے درمیان اس گہرے ربط و تعلق کا نتیجہ تھا کہ جب جامعہ سلفیہ بنارس کے روح رواں اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا اوراس کی خبرجامعہ میں پہونچی توسراج العلوم نے اسے اپنا غم تصور کیا اور یہاں کے درودیوار پر سوگواری کے اثرات ظاہر ہوگئے، ناظم جامعہ مولاناشمیم احمد ندوی حفظہ اللہ قطرکے سفرپر روانہ ہونے کے لئے لکھنؤ پہونچ چکے تھے اور راقم خود سفر حج کے سلسلہ میں لکھنؤمیں موجود تھا،جنازہ میں شرکت نہ کرپانے پر ہم دونوں ہی دل مسوس کے رہ گئے ،تاہم ناظم محترم نے بذریعہ موبائل فون اساتذۂ جامعہ کو جنازہ میں شرکت کی ہدایت فرمائی اوراس کے لئے گاڑی کا انتظام کیا اوراساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اورسفر سے واپسی کے بعد نومبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں ناظم جامعہ ومدیرمسؤل ماہنامہ ’’السراج‘‘ مولانا شمیم احمدندوی نے ایک تعزیتی مضمون لکھ کرازہری صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اورآپ کی علمی ودعوتی خدمات کو سراہا۔
ہند و نیپال کے ان دونوں بڑے جامعات کے مابین اس گہرے ربط و تعلق کی بنیاد پر اور نئی نسل کوڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کی قدآور،نابغۂ روزگارشخصیت سے واقف کرانے اورآپ کی ہمہ جہت علمی، ادبی، تعلیمی،تصنیفی، دعوتی و صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ماہنامہ’’السراج‘‘ نے ایک خصوصی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیااور ناظم جامعہ کے مشورہ سے بہ عجلت ایک خاکہ بنایاگیا اورمحدود پیمانہ پرعلاقہ اورآس پاس کے بعض اہل قلم حضرات کوازہری صاحب کی خدمات کے کسی اہم گوشہ پر لکھنے کی زحمت دی گئی، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض احباب اوربزرگوں نے ہماری درخواست کوشرف قبول بخشا اوراپنے گراں قدرمضامین سے ہمیں نوازکر ہمارا حوصلہ بڑھایا، ہم ان کے شکرگذار ہیں نیز جنھوں نے خاموشی اختیارکی یا معذرت کرلی ہم انھیں معذورتصورکرتے ہیں۔
میرے بعض دعوتی اسفار اور تدریسی،دعوتی و دفتری مصروفیات کے باوجود خصوصی اشاعت کے لئے مضامین کی کمپوزنگ مارچ کے اوائل میں مکمل ہوچکی تھی، اورارادہ تھا کہ مارچ ، اپریل اور مئی کے مشترکہ شمارہ کو خصوصی اشاعت کے طورپرنذر قارئین کردیاجائے گا،مگر بعض وجوہات سے ایسا نہ ہوسکا، اورایک ماہ کی مزید تاخیر ہوگئی تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ چند قیمتی مضامین ہمیں مزید دستیاب ہوگئے۔
خصوصی اشاعت کو منظر عام لانے کے لئے جب کہ ساری تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں اور ناظم جامعہ و مدیر مسؤل ماہنامہ السراج مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ اس کے لئے اپنا گراں قدر اداریہ لکھنے کا ذہن بناچکے تھے کہ اچانک عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کے سبب موصوف کی طبیعت ناساز ہوگئی اور چیک اَپ و علاج کے لئے آپ کو ہفتہ عشرہ لکھنؤ میں قیام کرنا پڑا،پھر جامعہ واپس تشریف لانے کے بعد بھی معالج کے مشورہ کے مطابق کچھ دنوں کے لئے آپ کو اپنی علمی و دعوتی سرگرمیاں موقوف کرنا پڑیں ،اس طرح ہمارے باذوق قارئین کرام آپ کے گراں قدر ادارتی مضمون سے محروم رہ گئے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل خاص سے موصوف کوشفاء کاملہ وعاجلہ سے نوازے اورصحت وعافیت کے ساتھ دیرتک اپنے دین کی خدمت کی توفیق بخشے۔(آمین)
آخر میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ترتیب مضامین کے سلسلہ میں پہلے یہ بات ذہن میں تھی کہ استاد محترم کی حیات،اخلاقیات اور خدمات وغیرہ عناوین کے تحت مضامین ترتیب دئے جائیں مگر ایسا اس لئے نہ ہوسکا کہ ہمیں موصول ہونے والے مضامین میں اکثر تاثراتی تھے، گو کہ بعض اہل قلم حضرات نے آپ کی علمی خدمات کو اجاگر کرنے کوشش کی ہے اور آپ کی بعض کتابوں اور ترجموں کے تعارف پر مشتمل مضامین قلم بند فرمائے ہیں،لیکن بد قسمتی سے آپ کے مکمل سوانحی خاکہ پر ہمیں کوئی مضمون نہ مل سکا، میں آپ کے اخلاقیات کے سلسلہ میں ایک مضمون لکھ چکا تھا مگر اس کمی کی تلافی کے لئے موصوف کی حیات و خدمات کے حوالہ سے ایک اورمضمون مرتب کرنا پڑا جس میں آپ کی بعض اہم خدمات کی جانب صرف اشارہ ہی ہوسکا ہے، باقی تاثراتی قسم کے مضامین میں اہل قلم حضرات نے اپنے مشاہدات اور ذاتی تاثرات کی روشنی میں ازہری صاحب کے اخلاقی پہلؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے، اس طرح اس خصوصی اشاعت میں ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کی زندگی اور خدمات کے چند ہی گوشے نمایاں کئے جاسکے ہیں اور استطاعت بھر آں رحمہ اللہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کوشش میں ہم کس قدر کامیاب ہیں اس کا فیصلہ باذوق قارئین فرمائیں گے،تاہم اہل نظر حضرات سے یہ گذارش ہے کہ اپنے گراں قدر تاثرات اور خیالات سے ضرور آگاہ فرمائیں اور اگر کوئی علمی یا تاریخی فروگذاشت انھیں نظر آئے تو اس سے ہمیں باخبر کریں، اللہ تعالی جزاء خیر عطا فرمائے گا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی بشری لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف کرے اور ان کی جملہ خدمات کو قبول کرتے ہوئے آپ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی و دعوتی کاموں کو صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برساتا رہے، اللہم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و أکرم نزلہ و وسّع مدخلہ و أدخلہ الفردوس الأعلیٰ۔(آمین)
Monday, September 20, 2010
Tuesday, July 20, 2010
عبدالمنان سلفیؔ
ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری
کی خدمات کو خراج تحسین
۲۰۰۹ء میں ملت وجماعت کو جن گراں قدراور عظیم علمی و دعوتی شخصیتوں کی وفات کا غم سہناپڑا ان میں مفکرجماعت استاذمحترم جناب ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت کاسانحۂ وفات سب سے غم انگیز،دل فگاراور افسوس ناک رہا کہ آپ کے اٹھ جانے سے علم و ادب کی مجلسیں سونی ہوگئیں، دعوتی، تدریسی، تصنیفی اور صحافتی میدانوں میں زبردست خلا پیدا ہوگیا اورملت کو ناقابل تلافی خسارہ سے دوچار ہونا پڑا، اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت فرمائے اور آپ کی جملہ خدمات کو شرف قبول عطا فرماتے ہوئے آپ کے درجات بلند کرے، آمین۔ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری کی شخصیت بڑی ہمہ گیر اور ان کی خدمات بڑی متنوع اورہمہ جہت تھیں، علمی اورادبی دنیا میں ان کا نام بڑا معتبر اور محترم ماناجاتا تھا اوراہل علم کے دلوں میں ان کی بڑی قدرومنزلت تھی، تدریس وتربیت سے لے کر تصنیف وتالیف، ترجمہ وتحقیق ،صحافت وانشاء پردازی اورانتظام وانصرام تک موصوف نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اپنی صلاحیت وقابلیت کالوہا تومنوایا ہی ، ہرمیدان میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی اورچالیس بیالیس سال کی عملی زندگی میں ان میدانوں میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دئے جن کی مثال عصرحاضر کے علماء میں نایاب نہ سہی تو کمیاب ضرورہے، موصوف بیک وقت کہنہ مشق مدرس، مشفق مربی، منجھے ہوئے صحافی وقلم کار، اور تحقیقی وادبی ذوق سے سرشار اعلیٰ پایہ کے مصنف ومترجم تھے، یہ تمام خوبیاں ایک ساتھ کسی ایک شخص کے اندرمشکل سے جمع ہوتی ہیں، اورسچی بات تویہ ہے کہ انھیں اوصاف و اعمال نے آپ کو عبقری اور نابغۂ روزگار بنادیا۔
جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر(نیپال) کا تعلق شہربنارس، اہالیان بنارس،جامعہ سلفیہ، ذمہ داران جامعہ اور اساتذۂ جامعہ خصوصاً ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ سے بڑا قدیم اورگہرا رہاہے، جامعہ سراج العلوم کے سابق ناظم خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ نے جامعہ رحمانیہ بنارس میں اپنے زمانۂ طالب علمی کے چند برس گذارکر مولانا محمد منیرخاں بنارسی اور قاری احمد سعید بنارسی رحمہما اللہ جیسے یگانۂ روزگار علماء و فضلاء سے کسب فیض کیاہے اور دارالحدیث رحمانیہ دہلی سے فراغت کے بعدکئی سال تک اپنے مادر علمی جامعہ رحمانیہ میں تدریسی خدمت انجام دیتے ہوئے ملا حسن،شرح تہذیب اور دیوان متنبی جیسی اہم اور فنی کتابوں کا درس دیا ہے، اس کا تذکرہ علامہ جھنڈانگری نے اپنے ایک خود نوشت میں کیا ہے اور اپنے نامور تلامذہ میں مولانا محمد یحیٰ ،مولانا محمد الیاس ،مولانا محمد موسی،مولانا عبید الرحمن اور مولانا عبد العظیم کے اسماء بہ طور خاص ذکرفرمائے ہیں،(ماہنامہ السراج ،خطیب الاسلام نمبر ص ۴۱۱)
اسی طرح یہ تاریخی حقیقت بھی ہے کہ علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ کے محرک اول اور اس کے مؤسسین میں سے تھے،اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ہی نے نوگڈھ کانفرنس منعقدہ ۱۹۶۱ء میں اپنے خطبۂ استقبالیہ کے اندر اس کی پرزور تحریک فرمائی تھی اور جماعت کو ایک مرکزی تعلیمی ادارہ کے قیام کی ضرورت کا احساس دلایا تھا، چنانچہ آپ نے اپنے تحریری استقبالیہ خطبہ میں لکھا تھاکہ:
’’ ایک ایسا مرکزی دارالعلوم بھی قائم کیا جانا ضروری ہے جس کے تعلیم یافتہ افاضل ملک و ملت کی خدمت اور اس کی بہترین رہنمائی کی اہلیت و صلاحیت سے بہرہ ور ہوں‘‘
پھر اس کی افادیت و اہمیت اور ضرورت کا ذکر کرتے آپ نے آگے مزید لکھا کہ:
’’اس لئے ایک ایسے مرکزی دارالعلوم کی ضرورت ہے جہاں کی تعلیم و تربیت سے طلبہ مزید اختصاص و امتیاز اور ایسے اوصاف حاصل کریں کہ ملک و ملت کی خدمت و رہنمائی کے قابل بن سکیں، صدر محترم سے گذارش ہے کہ ایسے دارالعلوم کے قیام کے مسئلہ پر ہر ممکن توجہ دے کر اس کے لئے اقدام فرمائیں‘‘ ۔اس حوالہ سے خطیب الاسلام رحمہ اللہ نے اپنے ایک تحریری انٹرویو میں فرمایاکہ:
’’ میری اس گذارش کایہ اثرہوا کہ دوسرے دن نوگڈھ کانفرنس ہی میں جو میٹنگ ہوئی اس میں فوری طور پر ایک مرکزی درسگاہ کے قیام کی منظوری متفقہ طور پر ہو گئی‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۴۳۹)
جامعہ سلفیہ بنارس کے موجودہ ناظم مولانا عبد اللہ سعود سلفی نے خطیب الاسلام کی وفات پربھیجے گئے اپنے تعزیتی خط میں اس حقیقت کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے اور مولانا جھنڈانگری کے جامعہ سلفیہ سے اس تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مولانا کا اہل بنارس سے بہت پرانا ربط تھا، وہ جامعہ سلفیہ کے مؤسسین میں سے تھے، نوگڈھ کے اجلاس میں آپ نے خطبۂ استقبالیہ میں جس طرح سے ایک مرکزی ادارہ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے وہ آپ کے جماعتی درد اور اصلاح و ترقی کی تڑپ کی غماز ہے، مولانا کاجامعہ سے دلی لگاؤ تھا اور وہ اسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۶۱۵)
جامعہ سلفیہ بنارس کے وکیل الجامعہ اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ نے بھی خطیب الاسلام پر لکھے گئے اپنے گراں قدر مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے بلکہ ’’مرکزی دارالعلوم سے خطیب الاسلام کا تعلق‘‘کے عنوان سے اس ربط و تعلق کو اجاگر فرمایا ہے، موصوف جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام میں نوگڈھ کانفرنس اور اس کے خطبۂ استقبالیہ کے کردارکا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہیں سے عملی طور پر مرکزی درس گاہ کے وجود و ترقی میں آپ کی حصہ داری شروع ہوئی اور حیات مستعار کے اختتام تک یہ سلسلہ جاری رہا، اہل حدیث کانفرنس کے اپنے اجتماعات اور قیام کے بعد جامعہ سلفیہ کے اجتماعات میں بالالتزام آپ کی شرکت ہوتی تھی اور آپ کی گفتگو اور مشوروں سے یہ اجتماعات کامیاب ہوتے تھے، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی دارالعلوم سے تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے، حتی کہ صحت کی بعض مجبوریوں کے باوجود آپ دارالعلوم کے اجتماعات میں برابر شریک ہوئے اور ہر موقع پر ادارہ کی بہی خواہی کو مقدم رکھا، بیرون ملک آپ سے ملاقات کے مواقع حاصل رہے، وہاں بھی آپ نے ہمیشہ ادارہ (جامعہ سلفیہ)کے مفاد کو مقدم رکھا، مجلس منتظمہ کی میٹنگ میں شرکت کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے بنارس تشریف لاتے تو دارالعلوم میں اساتذہ و طلبہ کو خطاب فرماتے اور نام لے لے کر لوگوں کی تعریف کرتے اور طلبہ کو استفادہ کی تلقین کرتے، یہاں سے شائع ہونے والے اردو مجلہ کو آپ کا قلمی تعاون برابر حاصل رہا اور بعض بے حد اہم مضامین بھی آپ نے پرچہ کو مرحمت فرمائے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۳۷)
جامعہ سلفیہ کے قیام کے فیصلہ کے بعداس کی تعمیر وترقی میں بھی مولانا جھنڈانگری نے زبردست عملی جدوجہد فرمائی ہے اوربجٹ کی فراہمی کے سلسلہ میں کئی دورے کئے ہیں،چنانچہ مولانا نے اپنے تحریری انٹرویو میں خود لکھا ہے کہ:
’’میں نے اور مولانا عبد الجلیل رحمانی نے جو پانچ ہزار(۱۹۶۳ء میں یہ ایک خطیر رقم تصور کی جاتی تھی) دینے کا عہد کیا تھا اپنے وقت پر پورا کردیا تھا،سخت گرمیوں میں ہم لوگ رکشہ پر نکلتے تھے اور جہاں کہیں سڑک پر نل مل جاتا رکشے سے اتر کر پانی پیتے اور پھر آگے بڑھ جاتے ، ایسے ہی سفر کرتے رہے، کئی روز سفر کر کے ہم لوگوں نے پانچ ہزار کی رقم اکٹھا کی اور ناظم جامعہ کے پاس بھیج دیا، اس کے علاوہ کئی مقامات پر مولانا عبد الوحید صاحب ناظم مرکزی دارالعلوم کے ساتھ چندہ کے لئے میں نکلا، جہاں ہم لوگ پہنچتے وہاں تقریر کا پروگرام ہوتا، تقریر کے اختتام پر میں چندہ کی تحریک کرتا اور مولانا عبد الوحید صاحب ناظم جامعہ چندہ کا استقبال کرتے، الحمد للہ اسی وقت دارالعلوم کے لئے اچھا خاصا چندہ جمع ہوگیا تھا‘‘(ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ۴۳۹)۔
جامعہ سلفیہ کے قیام کے بعددسیوں برس تک خطیب الاسلام علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ کی مجلس شوریٰ کے ممبربھی رہے، اوراس کی میٹنگوں میں پوری پابندی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، ان تمام حوالوں سے ان کا بنارس آنا جاناکثرت سے ہوتاتھا، رؤساء مدن پورہ بھی آپ کی بڑی قدرکرتے تھے، ناظم جامعہ مولاناعبدالوحید سلفی، الحاج محمدصدیق، مولانا محمدیحی بنارسی ،مولانامحمدزبیراورمولانا عبدالقدوس نسیمؔ بنارسی رحمہم اللہ جیسے مخلص اورذمہ دارقسم کے لوگ خصوصاً مولاناجھنڈانگری کی بیحد توقیر وتکریم فرماتے تھے۱۹۷۷ء میں خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ جب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس تأسیسی کے رکن منتخب ہوئے اورعرب دنیا سے آپ کا رابطہ مستحکم ہواتواپنے مضامین ،رپورٹس و تقاریر ا ور خطوط ورسائل کی تعریب کے لئے آپ نے ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ سے مددلی، مولاناجھنڈانگری باوجویکہ مختلف علوم وفنون کے ماہر تھے اوراردومیں ان کا قلم بڑا سیال تھا تاہم خاص ماحول اور مشق ومزاولت کے فقدان کے سبب فصیح وبلیغ عربی لکھنے پر قادر نہ تھے، اس لئے جب انھیں کوئی اہم خط لکھنا ہوتا یا کسی خاص موضوع پرانھیں تقریر ورپورٹ پیش کرنی ہوتی تواس کی تعریب کے لئے خودجامعہ سلفیہ تشریف لے جاتے اورڈاکٹر ازہری صاحب کی خدمت میں اپنا مدعا پیش فرماتے، ازہری صاحب خطیب الاسلام کے بڑے قدرداں تھے اوران کا غایت درجہ احترام واکرام فرماتے، اپنے ضروری کاموں کو چھوڑکر خطیب الاسلام کے خطوط ورسائل اور دیگرچیزوں کی خود تعریب کرتے اور پھرانھیں اپنے ہاتھ سے ٹائپ کرتے یا کمپوز کراتے، تعاون باہمی کا یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا، کم ازکم ۱۹۸۲ء تک تواس کا مشاہدہ میں نے خود کیاہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے درمیان اس گہرے ربط و تعلق کا نتیجہ تھا کہ جب جامعہ سلفیہ بنارس کے روح رواں اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا اوراس کی خبرجامعہ میں پہونچی توسراج العلوم نے اسے اپنا غم تصور کیا اور یہاں کے درودیوار پر سوگواری کے اثرات ظاہر ہوگئے، ناظم جامعہ مولاناشمیم احمد ندوی حفظہ اللہ قطرکے سفرپر روانہ ہونے کے لئے لکھنؤ پہونچ چکے تھے اور راقم خود سفر حج کے سلسلہ میں لکھنؤمیں موجود تھا،جنازہ میں شرکت نہ کرپانے پر ہم دونوں ہی دل مسوس کے رہ گئے ،تاہم ناظم محترم نے بذریعہ موبائل فون اساتذۂ جامعہ کو جنازہ میں شرکت کی ہدایت فرمائی اوراس کے لئے گاڑی کا انتظام کیا اوراساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اورسفر سے واپسی کے بعد نومبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں ناظم جامعہ ومدیرمسؤل ماہنامہ ’’السراج‘‘ مولانا شمیم احمدندوی نے ایک تعزیتی مضمون لکھ کرازہری صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اورآپ کی علمی ودعوتی خدمات کو سراہا۔
ہند و نیپال کے ان دونوں بڑے جامعات کے مابین اس گہرے ربط و تعلق کی بنیاد پر اور نئی نسل کوڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کی قدآور،نابغۂ روزگارشخصیت سے واقف کرانے اورآپ کی ہمہ جہت علمی، ادبی، تعلیمی،تصنیفی، دعوتی و صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ماہنامہ’’السراج‘‘ نے ایک خصوصی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیااور ناظم جامعہ کے مشورہ سے بہ عجلت ایک خاکہ بنایاگیا اورمحدود پیمانہ پرعلاقہ اورآس پاس کے بعض اہل قلم حضرات کوازہری صاحب کی خدمات کے کسی اہم گوشہ پر لکھنے کی زحمت دی گئی، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض احباب اوربزرگوں نے ہماری درخواست کوشرف قبول بخشا اوراپنے گراں قدرمضامین سے ہمیں نوازکر ہمارا حوصلہ بڑھایا، ہم ان کے شکرگذار ہیں نیز جنھوں نے خاموشی اختیارکی یا معذرت کرلی ہم انھیں معذورتصورکرتے ہیں۔
میرے بعض دعوتی اسفار اور تدریسی،دعوتی و دفتری مصروفیات کے باوجود خصوصی اشاعت کے لئے مضامین کی کمپوزنگ مارچ کے اوائل میں مکمل ہوچکی تھی، اورارادہ تھا کہ مارچ ، اپریل اور مئی کے مشترکہ شمارہ کو خصوصی اشاعت کے طورپرنذر قارئین کردیاجائے گا،مگر بعض وجوہات سے ایسا نہ ہوسکا، اورایک ماہ کی مزید تاخیر ہوگئی تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ چند قیمتی مضامین ہمیں مزید دستیاب ہوگئے۔
خصوصی اشاعت کو منظر عام لانے کے لئے جب کہ ساری تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں اور ناظم جامعہ و مدیر مسؤل ماہنامہ السراج مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ اس کے لئے اپنا گراں قدر اداریہ لکھنے کا ذہن بناچکے تھے کہ اچانک عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کے سبب موصوف کی طبیعت ناساز ہوگئی اور چیک اَپ و علاج کے لئے آپ کو ہفتہ عشرہ لکھنؤ میں قیام کرنا پڑا،پھر جامعہ واپس تشریف لانے کے بعد بھی معالج کے مشورہ کے مطابق کچھ دنوں کے لئے آپ کو اپنی علمی و دعوتی سرگرمیاں موقوف کرنا پڑیں ،اس طرح ہمارے باذوق قارئین کرام آپ کے گراں قدر ادارتی مضمون سے محروم رہ گئے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل خاص سے موصوف کوشفاء کاملہ وعاجلہ سے نوازے اورصحت وعافیت کے ساتھ دیرتک اپنے دین کی خدمت کی توفیق بخشے۔(آمین)
آخر میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ترتیب مضامین کے سلسلہ میں پہلے یہ بات ذہن میں تھی کہ استاد محترم کی حیات،اخلاقیات اور خدمات وغیرہ عناوین کے تحت مضامین ترتیب دئے جائیں مگر ایسا اس لئے نہ ہوسکا کہ ہمیں موصول ہونے والے مضامین میں اکثر تاثراتی تھے، گو کہ بعض اہل قلم حضرات نے آپ کی علمی خدمات کو اجاگر کرنے کوشش کی ہے اور آپ کی بعض کتابوں اور ترجموں کے تعارف پر مشتمل مضامین قلم بند فرمائے ہیں،لیکن بد قسمتی سے آپ کے مکمل سوانحی خاکہ پر ہمیں کوئی مضمون نہ مل سکا، میں آپ کے اخلاقیات کے سلسلہ میں ایک مضمون لکھ چکا تھا مگر اس کمی کی تلافی کے لئے موصوف کی حیات و خدمات کے حوالہ سے ایک اورمضمون مرتب کرنا پڑا جس میں آپ کی بعض اہم خدمات کی جانب صرف اشارہ ہی ہوسکا ہے، باقی تاثراتی قسم کے مضامین میں اہل قلم حضرات نے اپنے مشاہدات اور ذاتی تاثرات کی روشنی میں ازہری صاحب کے اخلاقی پہلؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے، اس طرح اس خصوصی اشاعت میں ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کی زندگی اور خدمات کے چند ہی گوشے نمایاں کئے جاسکے ہیں اور استطاعت بھر آں رحمہ اللہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کوشش میں ہم کس قدر کامیاب ہیں اس کا فیصلہ باذوق قارئین فرمائیں گے،تاہم اہل نظر حضرات سے یہ گذارش ہے کہ اپنے گراں قدر تاثرات اور خیالات سے ضرور آگاہ فرمائیں اور اگر کوئی علمی یا تاریخی فروگذاشت انھیں نظر آئے تو اس سے ہمیں باخبر کریں، اللہ تعالی جزاء خیر عطا فرمائے گا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی بشری لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف کرے اور ان کی جملہ خدمات کو قبول کرتے ہوئے آپ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی و دعوتی کاموں کو صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برساتا رہے، اللہم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و أکرم نزلہ و وسّع مدخلہ و أدخلہ الفردوس الأعلیٰ۔(آمین)
ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری
کی خدمات کو خراج تحسین
۲۰۰۹ء میں ملت وجماعت کو جن گراں قدراور عظیم علمی و دعوتی شخصیتوں کی وفات کا غم سہناپڑا ان میں مفکرجماعت استاذمحترم جناب ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت کاسانحۂ وفات سب سے غم انگیز،دل فگاراور افسوس ناک رہا کہ آپ کے اٹھ جانے سے علم و ادب کی مجلسیں سونی ہوگئیں، دعوتی، تدریسی، تصنیفی اور صحافتی میدانوں میں زبردست خلا پیدا ہوگیا اورملت کو ناقابل تلافی خسارہ سے دوچار ہونا پڑا، اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت فرمائے اور آپ کی جملہ خدمات کو شرف قبول عطا فرماتے ہوئے آپ کے درجات بلند کرے، آمین۔ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری کی شخصیت بڑی ہمہ گیر اور ان کی خدمات بڑی متنوع اورہمہ جہت تھیں، علمی اورادبی دنیا میں ان کا نام بڑا معتبر اور محترم ماناجاتا تھا اوراہل علم کے دلوں میں ان کی بڑی قدرومنزلت تھی، تدریس وتربیت سے لے کر تصنیف وتالیف، ترجمہ وتحقیق ،صحافت وانشاء پردازی اورانتظام وانصرام تک موصوف نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اپنی صلاحیت وقابلیت کالوہا تومنوایا ہی ، ہرمیدان میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی اورچالیس بیالیس سال کی عملی زندگی میں ان میدانوں میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دئے جن کی مثال عصرحاضر کے علماء میں نایاب نہ سہی تو کمیاب ضرورہے، موصوف بیک وقت کہنہ مشق مدرس، مشفق مربی، منجھے ہوئے صحافی وقلم کار، اور تحقیقی وادبی ذوق سے سرشار اعلیٰ پایہ کے مصنف ومترجم تھے، یہ تمام خوبیاں ایک ساتھ کسی ایک شخص کے اندرمشکل سے جمع ہوتی ہیں، اورسچی بات تویہ ہے کہ انھیں اوصاف و اعمال نے آپ کو عبقری اور نابغۂ روزگار بنادیا۔
جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر(نیپال) کا تعلق شہربنارس، اہالیان بنارس،جامعہ سلفیہ، ذمہ داران جامعہ اور اساتذۂ جامعہ خصوصاً ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ سے بڑا قدیم اورگہرا رہاہے، جامعہ سراج العلوم کے سابق ناظم خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ نے جامعہ رحمانیہ بنارس میں اپنے زمانۂ طالب علمی کے چند برس گذارکر مولانا محمد منیرخاں بنارسی اور قاری احمد سعید بنارسی رحمہما اللہ جیسے یگانۂ روزگار علماء و فضلاء سے کسب فیض کیاہے اور دارالحدیث رحمانیہ دہلی سے فراغت کے بعدکئی سال تک اپنے مادر علمی جامعہ رحمانیہ میں تدریسی خدمت انجام دیتے ہوئے ملا حسن،شرح تہذیب اور دیوان متنبی جیسی اہم اور فنی کتابوں کا درس دیا ہے، اس کا تذکرہ علامہ جھنڈانگری نے اپنے ایک خود نوشت میں کیا ہے اور اپنے نامور تلامذہ میں مولانا محمد یحیٰ ،مولانا محمد الیاس ،مولانا محمد موسی،مولانا عبید الرحمن اور مولانا عبد العظیم کے اسماء بہ طور خاص ذکرفرمائے ہیں،(ماہنامہ السراج ،خطیب الاسلام نمبر ص ۴۱۱)
اسی طرح یہ تاریخی حقیقت بھی ہے کہ علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ کے محرک اول اور اس کے مؤسسین میں سے تھے،اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ہی نے نوگڈھ کانفرنس منعقدہ ۱۹۶۱ء میں اپنے خطبۂ استقبالیہ کے اندر اس کی پرزور تحریک فرمائی تھی اور جماعت کو ایک مرکزی تعلیمی ادارہ کے قیام کی ضرورت کا احساس دلایا تھا، چنانچہ آپ نے اپنے تحریری استقبالیہ خطبہ میں لکھا تھاکہ:
’’ ایک ایسا مرکزی دارالعلوم بھی قائم کیا جانا ضروری ہے جس کے تعلیم یافتہ افاضل ملک و ملت کی خدمت اور اس کی بہترین رہنمائی کی اہلیت و صلاحیت سے بہرہ ور ہوں‘‘
پھر اس کی افادیت و اہمیت اور ضرورت کا ذکر کرتے آپ نے آگے مزید لکھا کہ:
’’اس لئے ایک ایسے مرکزی دارالعلوم کی ضرورت ہے جہاں کی تعلیم و تربیت سے طلبہ مزید اختصاص و امتیاز اور ایسے اوصاف حاصل کریں کہ ملک و ملت کی خدمت و رہنمائی کے قابل بن سکیں، صدر محترم سے گذارش ہے کہ ایسے دارالعلوم کے قیام کے مسئلہ پر ہر ممکن توجہ دے کر اس کے لئے اقدام فرمائیں‘‘ ۔اس حوالہ سے خطیب الاسلام رحمہ اللہ نے اپنے ایک تحریری انٹرویو میں فرمایاکہ:
’’ میری اس گذارش کایہ اثرہوا کہ دوسرے دن نوگڈھ کانفرنس ہی میں جو میٹنگ ہوئی اس میں فوری طور پر ایک مرکزی درسگاہ کے قیام کی منظوری متفقہ طور پر ہو گئی‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۴۳۹)
جامعہ سلفیہ بنارس کے موجودہ ناظم مولانا عبد اللہ سعود سلفی نے خطیب الاسلام کی وفات پربھیجے گئے اپنے تعزیتی خط میں اس حقیقت کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے اور مولانا جھنڈانگری کے جامعہ سلفیہ سے اس تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مولانا کا اہل بنارس سے بہت پرانا ربط تھا، وہ جامعہ سلفیہ کے مؤسسین میں سے تھے، نوگڈھ کے اجلاس میں آپ نے خطبۂ استقبالیہ میں جس طرح سے ایک مرکزی ادارہ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے وہ آپ کے جماعتی درد اور اصلاح و ترقی کی تڑپ کی غماز ہے، مولانا کاجامعہ سے دلی لگاؤ تھا اور وہ اسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۶۱۵)
جامعہ سلفیہ بنارس کے وکیل الجامعہ اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ نے بھی خطیب الاسلام پر لکھے گئے اپنے گراں قدر مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے بلکہ ’’مرکزی دارالعلوم سے خطیب الاسلام کا تعلق‘‘کے عنوان سے اس ربط و تعلق کو اجاگر فرمایا ہے، موصوف جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام میں نوگڈھ کانفرنس اور اس کے خطبۂ استقبالیہ کے کردارکا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہیں سے عملی طور پر مرکزی درس گاہ کے وجود و ترقی میں آپ کی حصہ داری شروع ہوئی اور حیات مستعار کے اختتام تک یہ سلسلہ جاری رہا، اہل حدیث کانفرنس کے اپنے اجتماعات اور قیام کے بعد جامعہ سلفیہ کے اجتماعات میں بالالتزام آپ کی شرکت ہوتی تھی اور آپ کی گفتگو اور مشوروں سے یہ اجتماعات کامیاب ہوتے تھے، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی دارالعلوم سے تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے، حتی کہ صحت کی بعض مجبوریوں کے باوجود آپ دارالعلوم کے اجتماعات میں برابر شریک ہوئے اور ہر موقع پر ادارہ کی بہی خواہی کو مقدم رکھا، بیرون ملک آپ سے ملاقات کے مواقع حاصل رہے، وہاں بھی آپ نے ہمیشہ ادارہ (جامعہ سلفیہ)کے مفاد کو مقدم رکھا، مجلس منتظمہ کی میٹنگ میں شرکت کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے بنارس تشریف لاتے تو دارالعلوم میں اساتذہ و طلبہ کو خطاب فرماتے اور نام لے لے کر لوگوں کی تعریف کرتے اور طلبہ کو استفادہ کی تلقین کرتے، یہاں سے شائع ہونے والے اردو مجلہ کو آپ کا قلمی تعاون برابر حاصل رہا اور بعض بے حد اہم مضامین بھی آپ نے پرچہ کو مرحمت فرمائے‘‘ ( ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ص ۳۷)
جامعہ سلفیہ کے قیام کے فیصلہ کے بعداس کی تعمیر وترقی میں بھی مولانا جھنڈانگری نے زبردست عملی جدوجہد فرمائی ہے اوربجٹ کی فراہمی کے سلسلہ میں کئی دورے کئے ہیں،چنانچہ مولانا نے اپنے تحریری انٹرویو میں خود لکھا ہے کہ:
’’میں نے اور مولانا عبد الجلیل رحمانی نے جو پانچ ہزار(۱۹۶۳ء میں یہ ایک خطیر رقم تصور کی جاتی تھی) دینے کا عہد کیا تھا اپنے وقت پر پورا کردیا تھا،سخت گرمیوں میں ہم لوگ رکشہ پر نکلتے تھے اور جہاں کہیں سڑک پر نل مل جاتا رکشے سے اتر کر پانی پیتے اور پھر آگے بڑھ جاتے ، ایسے ہی سفر کرتے رہے، کئی روز سفر کر کے ہم لوگوں نے پانچ ہزار کی رقم اکٹھا کی اور ناظم جامعہ کے پاس بھیج دیا، اس کے علاوہ کئی مقامات پر مولانا عبد الوحید صاحب ناظم مرکزی دارالعلوم کے ساتھ چندہ کے لئے میں نکلا، جہاں ہم لوگ پہنچتے وہاں تقریر کا پروگرام ہوتا، تقریر کے اختتام پر میں چندہ کی تحریک کرتا اور مولانا عبد الوحید صاحب ناظم جامعہ چندہ کا استقبال کرتے، الحمد للہ اسی وقت دارالعلوم کے لئے اچھا خاصا چندہ جمع ہوگیا تھا‘‘(ماہنامہ السراج خطیب الاسلام نمبر ۴۳۹)۔
جامعہ سلفیہ کے قیام کے بعددسیوں برس تک خطیب الاسلام علامہ جھنڈانگری رحمہ اللہ جامعہ کی مجلس شوریٰ کے ممبربھی رہے، اوراس کی میٹنگوں میں پوری پابندی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، ان تمام حوالوں سے ان کا بنارس آنا جاناکثرت سے ہوتاتھا، رؤساء مدن پورہ بھی آپ کی بڑی قدرکرتے تھے، ناظم جامعہ مولاناعبدالوحید سلفی، الحاج محمدصدیق، مولانا محمدیحی بنارسی ،مولانامحمدزبیراورمولانا عبدالقدوس نسیمؔ بنارسی رحمہم اللہ جیسے مخلص اورذمہ دارقسم کے لوگ خصوصاً مولاناجھنڈانگری کی بیحد توقیر وتکریم فرماتے تھے۱۹۷۷ء میں خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ جب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی مجلس تأسیسی کے رکن منتخب ہوئے اورعرب دنیا سے آپ کا رابطہ مستحکم ہواتواپنے مضامین ،رپورٹس و تقاریر ا ور خطوط ورسائل کی تعریب کے لئے آپ نے ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ سے مددلی، مولاناجھنڈانگری باوجویکہ مختلف علوم وفنون کے ماہر تھے اوراردومیں ان کا قلم بڑا سیال تھا تاہم خاص ماحول اور مشق ومزاولت کے فقدان کے سبب فصیح وبلیغ عربی لکھنے پر قادر نہ تھے، اس لئے جب انھیں کوئی اہم خط لکھنا ہوتا یا کسی خاص موضوع پرانھیں تقریر ورپورٹ پیش کرنی ہوتی تواس کی تعریب کے لئے خودجامعہ سلفیہ تشریف لے جاتے اورڈاکٹر ازہری صاحب کی خدمت میں اپنا مدعا پیش فرماتے، ازہری صاحب خطیب الاسلام کے بڑے قدرداں تھے اوران کا غایت درجہ احترام واکرام فرماتے، اپنے ضروری کاموں کو چھوڑکر خطیب الاسلام کے خطوط ورسائل اور دیگرچیزوں کی خود تعریب کرتے اور پھرانھیں اپنے ہاتھ سے ٹائپ کرتے یا کمپوز کراتے، تعاون باہمی کا یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا، کم ازکم ۱۹۸۲ء تک تواس کا مشاہدہ میں نے خود کیاہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے درمیان اس گہرے ربط و تعلق کا نتیجہ تھا کہ جب جامعہ سلفیہ بنارس کے روح رواں اور صدر جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا اوراس کی خبرجامعہ میں پہونچی توسراج العلوم نے اسے اپنا غم تصور کیا اور یہاں کے درودیوار پر سوگواری کے اثرات ظاہر ہوگئے، ناظم جامعہ مولاناشمیم احمد ندوی حفظہ اللہ قطرکے سفرپر روانہ ہونے کے لئے لکھنؤ پہونچ چکے تھے اور راقم خود سفر حج کے سلسلہ میں لکھنؤمیں موجود تھا،جنازہ میں شرکت نہ کرپانے پر ہم دونوں ہی دل مسوس کے رہ گئے ،تاہم ناظم محترم نے بذریعہ موبائل فون اساتذۂ جامعہ کو جنازہ میں شرکت کی ہدایت فرمائی اوراس کے لئے گاڑی کا انتظام کیا اوراساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اورسفر سے واپسی کے بعد نومبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں ناظم جامعہ ومدیرمسؤل ماہنامہ ’’السراج‘‘ مولانا شمیم احمدندوی نے ایک تعزیتی مضمون لکھ کرازہری صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اورآپ کی علمی ودعوتی خدمات کو سراہا۔
ہند و نیپال کے ان دونوں بڑے جامعات کے مابین اس گہرے ربط و تعلق کی بنیاد پر اور نئی نسل کوڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کی قدآور،نابغۂ روزگارشخصیت سے واقف کرانے اورآپ کی ہمہ جہت علمی، ادبی، تعلیمی،تصنیفی، دعوتی و صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ماہنامہ’’السراج‘‘ نے ایک خصوصی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیااور ناظم جامعہ کے مشورہ سے بہ عجلت ایک خاکہ بنایاگیا اورمحدود پیمانہ پرعلاقہ اورآس پاس کے بعض اہل قلم حضرات کوازہری صاحب کی خدمات کے کسی اہم گوشہ پر لکھنے کی زحمت دی گئی، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض احباب اوربزرگوں نے ہماری درخواست کوشرف قبول بخشا اوراپنے گراں قدرمضامین سے ہمیں نوازکر ہمارا حوصلہ بڑھایا، ہم ان کے شکرگذار ہیں نیز جنھوں نے خاموشی اختیارکی یا معذرت کرلی ہم انھیں معذورتصورکرتے ہیں۔
میرے بعض دعوتی اسفار اور تدریسی،دعوتی و دفتری مصروفیات کے باوجود خصوصی اشاعت کے لئے مضامین کی کمپوزنگ مارچ کے اوائل میں مکمل ہوچکی تھی، اورارادہ تھا کہ مارچ ، اپریل اور مئی کے مشترکہ شمارہ کو خصوصی اشاعت کے طورپرنذر قارئین کردیاجائے گا،مگر بعض وجوہات سے ایسا نہ ہوسکا، اورایک ماہ کی مزید تاخیر ہوگئی تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ چند قیمتی مضامین ہمیں مزید دستیاب ہوگئے۔
خصوصی اشاعت کو منظر عام لانے کے لئے جب کہ ساری تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں اور ناظم جامعہ و مدیر مسؤل ماہنامہ السراج مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ اس کے لئے اپنا گراں قدر اداریہ لکھنے کا ذہن بناچکے تھے کہ اچانک عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کے سبب موصوف کی طبیعت ناساز ہوگئی اور چیک اَپ و علاج کے لئے آپ کو ہفتہ عشرہ لکھنؤ میں قیام کرنا پڑا،پھر جامعہ واپس تشریف لانے کے بعد بھی معالج کے مشورہ کے مطابق کچھ دنوں کے لئے آپ کو اپنی علمی و دعوتی سرگرمیاں موقوف کرنا پڑیں ،اس طرح ہمارے باذوق قارئین کرام آپ کے گراں قدر ادارتی مضمون سے محروم رہ گئے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل خاص سے موصوف کوشفاء کاملہ وعاجلہ سے نوازے اورصحت وعافیت کے ساتھ دیرتک اپنے دین کی خدمت کی توفیق بخشے۔(آمین)
آخر میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ترتیب مضامین کے سلسلہ میں پہلے یہ بات ذہن میں تھی کہ استاد محترم کی حیات،اخلاقیات اور خدمات وغیرہ عناوین کے تحت مضامین ترتیب دئے جائیں مگر ایسا اس لئے نہ ہوسکا کہ ہمیں موصول ہونے والے مضامین میں اکثر تاثراتی تھے، گو کہ بعض اہل قلم حضرات نے آپ کی علمی خدمات کو اجاگر کرنے کوشش کی ہے اور آپ کی بعض کتابوں اور ترجموں کے تعارف پر مشتمل مضامین قلم بند فرمائے ہیں،لیکن بد قسمتی سے آپ کے مکمل سوانحی خاکہ پر ہمیں کوئی مضمون نہ مل سکا، میں آپ کے اخلاقیات کے سلسلہ میں ایک مضمون لکھ چکا تھا مگر اس کمی کی تلافی کے لئے موصوف کی حیات و خدمات کے حوالہ سے ایک اورمضمون مرتب کرنا پڑا جس میں آپ کی بعض اہم خدمات کی جانب صرف اشارہ ہی ہوسکا ہے، باقی تاثراتی قسم کے مضامین میں اہل قلم حضرات نے اپنے مشاہدات اور ذاتی تاثرات کی روشنی میں ازہری صاحب کے اخلاقی پہلؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے، اس طرح اس خصوصی اشاعت میں ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کی زندگی اور خدمات کے چند ہی گوشے نمایاں کئے جاسکے ہیں اور استطاعت بھر آں رحمہ اللہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کوشش میں ہم کس قدر کامیاب ہیں اس کا فیصلہ باذوق قارئین فرمائیں گے،تاہم اہل نظر حضرات سے یہ گذارش ہے کہ اپنے گراں قدر تاثرات اور خیالات سے ضرور آگاہ فرمائیں اور اگر کوئی علمی یا تاریخی فروگذاشت انھیں نظر آئے تو اس سے ہمیں باخبر کریں، اللہ تعالی جزاء خیر عطا فرمائے گا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی بشری لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف کرے اور ان کی جملہ خدمات کو قبول کرتے ہوئے آپ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی و دعوتی کاموں کو صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برساتا رہے، اللہم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و أکرم نزلہ و وسّع مدخلہ و أدخلہ الفردوس الأعلیٰ۔(آمین)
Tuesday, March 23, 2010
ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری-------مولانا محمد اسحاق بھٹی
ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ایک شہر کا نام مؤ ناتھ بھنجن ہے جو کپڑے کی صنعت،علمی مراکز اور علمائے دین کا مسکن ہونے کی بنا پر صدیوں سے مشہور ہے۔ اس شہر کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں سلفی حضرات کے تین بڑے مدارس قائم ہیں۔ ایک جامعہ عالیہ عربیہ، دوسرا جامعہ اسلامیہ جسے مدرسہ فیض عام کہا جاتا ہے اور تیسرا جامعہ اثریہ۔ ان کے علاوہ چھوٹی سطح کے متعدد مدارس جاری ہیں۔
وہاں کے بڑے مدارس نے اس نواح میں بے حد شہرت پائی۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں سے طلبا ان میں داخل ہوئے اور انہوں نے علوم دینیہ حاصل کئے۔ پھر وہ تصنیف وتالیف، دعوت وارشاد اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کی خدمات کے دائرے علم وعمل کے مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
اسی علمی اور صنعتی شہر(مؤ ناتھ بھنجن)کے ایک سلفی خاندان کے ممتاز عالم دین ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری ہیں جو ۱۸؍اگست ۱۹۳۹ء کو پیدا ہوئے اور خالص علمی فضا اور مجمع علما میں پلے بڑھے۔
تعلیم کا آغاز مدرسہ دارالعلوم سے کیا جو مرزا ہادی پورہ کی شاخ ہے۔ (۱)۱۹۵۳ء میں وہاں سے حفظ قرآن کی سند لی۔ پھر اسی شہر کے مختلف سلفی مدارس میں تعلیمی مراحل طے کئے۔ جامعہ عالیہ عربیہ سے ۱۹۵۹ء میں درجہ ثانویہ کی سند حاصل کیااور ۱۹۶۲ء میں وہاں کی جامعہ اثریہ سے سند فراغت سے بہرہ یاب ہوئے۔ ۱۹۵۹ء اور ۱۹۶۲ء کے درمیانی عرصے میں صوبہ یوپی کے سرکاری تعلیمی بورڈ میں ’’مولوی، مولوی عالم اور مولوی فاضل‘‘ کے امتحانات دئے اور ان میں کامیاب ہوئے۔
اس کے بعد مصر گئے اور جامعہ ازہرمیں داخلہ لیا۔ ۱۹۶۶ء میں وہاں کے شعبہ اصول الدین میں ایم اے کی سند حاصل کی پھر جامعہ ازہر ہی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، لیکن اس اثنا میں حالات ایسے پیدا ہوئے کہ اپنے وطن (ہندوستان) واپس آگئے اور سلسلۂ تدریس شروع کردیا۔ اسی اثنا میں ان کے دل میں اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کا جذبہ ابھرا تو۱۹۷۲ء میں ایم فل کیا۔ پھر اس سے تین سال بعد ۱۹۷۵ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ادب عربی‘‘ میں پی ایچ ڈی کی سند لی۔ اس طرح ان کا طویل تعلیمی سفر اختتام کو پہنچا اور انہوں نے ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے نام سے شہرت پائی۔
اپنے تعلیمی مراحل کے مختلف حصوں میں انہوں نے جن علماء و شیوخ سے استفادہ کیا، ان میں ڈاکٹر عبدالعلی، شیخ عبدالمعید، شیخ شمس الحق سلفی، شیخ عبدالرحمن، شیخ حبیب الرحمن فیضی، شیخ عظیم اللہ،شیخ عبداللہ شائق، شیخ ابوالقاسم فیضی، ڈاکٹر علی عبدالواحد وافی اور ڈاکٹر شوقی ضیف شامل ہیں۔
۱۹۶۸ء میں ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کو جامعہ سلفیہ(بنارس) کی تدریسی جماعت میں شامل کیا گیا۔ اس وقت جامعہ کے ناظم اعلیٰ شیخ عبدالوحید سلفی تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب ممدوح کے نبوغ و فراست اور ان کی صلاحیت و قابلیت کا اندازہ کرلیا تھا۔ پھر انہیں جامعہ کے وکیل کا منصب عطا کیا گیا۔ جامعہ کا عربی مجلہ’’صوت الامۃ‘‘ ۱۹۶۹ء میں جاری ہوا تو انہیں اس کا چیف ایڈیٹر بنادیا گیا۔ اس مجلے کا وہ اداریہ بھی لکھتے اور مضامین بھی سپر قلم کرتے ہیں یہ انتہائی اہم کام ہے جو وہ باقائدگی سے کررہے ہیں۔ جامعہ کے تحقیقی و تصنیفی ادارے کا نام ’’ادارۃ البحوث الاسلامیہ‘‘ ہے ، جس کی طرف سے اب تک عربی، اردو، ہندی اور انگریزی میں چارسو سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ڈاکٹر صاحب اس بہت بڑے ادارے کے نگراں ہیں اور ہرکتاب پر جچے تلے الفاظ میں مقدمہ تحریر فرماتے ہیں۔
اللہ نے ان کو زبان و اسلوب کی نعمت سے بھی نوازا ہے اور معلومات کی دولت بھی عطا فرمائی ہے۔ وہ مختلف رسائل و جرائد میں اردو اور عربی دونوں زبانوں میں اظہار رائے کرتے ہیں اور قارئین شوق اور دلچسپی سے ان کے مضامین پڑھتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے تحریر فرمودہ مضامین و مقالات کی تعداد پانچ سو سے آگے نکل چکی ہے۔
اب ان کی تصانیف کی طرف آیئے۔
(۱)۔۔۔ تاریخ ادب عربی: یہ کتاب پانچ جلدوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
(۲)۔۔۔ عورت کے متعلق اسلام کا نظریہ: اس موضوع کی یہ ایک قابل قدر کتاب ہے۔
(۳)۔۔۔ ادب کی حقیقت
(۴)۔۔۔ مسلمان اور اسلامی ثقافت
(۵)۔۔۔ دور حاضر میں نوجوان مسلم کی ذمہ داری
(۶)۔۔۔ معاصر کتابوں اور تاریخ کی روشنی میں بابری مسجد کا سانحہ۔
ان اردو کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نے متعدد عربی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا، ان کتابوں میں مندرجہ ذیل کتابوں کو خاص اہمیت حاصل ہے:
(۱)۔۔۔ اقتضاء الصراط المستقیم: یہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے اردوزبان میں ترجمہ کیا۔
(۲)۔۔۔ مختصر زاد المعاد: یہ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تصنیف ہے۔
(۳)۔۔۔ اصلاح المساجد: یہ شیخ جمال الدین قاسمی کی تالیف ہے۔
(۴)۔۔۔ فتاویٰ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اردو میں اختصار۔
ان کے علاوہ متعدد اہم اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ ان کتابوں میں بعض کتابیں یہ ہیں:
(۱)۔۔۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین : یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فارسی تصنیف ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے عربی زبان میں ترجمہ کیا۔
(۲)۔۔۔ رحمت للعالمین: یہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی نبی ﷺ کی سیرتِ مقدسہ کے موضوع پر اردو زبان میں تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے، جسے بے حد شہرت اور قبولیت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔
(۳)۔۔۔ تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی: یہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم کی اردو تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجھود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘کے نام سے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔
(۴)۔۔۔ حجیت حدیث: یہ بھی حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تصنیف ہے، جسے ڈاکٹر صاحب ممدوح نے عربی کے قالب میں ڈھالا۔ اس کتاب کے چار باب ہیں:
باب اول: حدیث کی تشریعی اہمیت
باب دوم: جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث
باب سوم: سنت، قرآن کے آئینے میں
باب چہارم: حجیت حدیث نبیﷺ کی سیرت کی روشنی میں
اب ڈاکٹر صاحب کے تلامذہ کی طرف آتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ممدوح کی تدریس کا سلسلہ ان کے جامعہ ازہر میں داخلے سے قبل سے چلتا ہے۔ اپنے وطن کے مدارس سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۲ء تک جامعہ اسلامیہ(فیض عام) مؤناتھ بھنجن کی مسند درس پر دوسال متمکن رہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں (جب پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے تھے) دوسال وہاں عربی ادب کا مضمون پڑھایا۔
اس کے بعد ۱۹۶۸ء سے اب تک مسلسل جامعہ سلفیہ (بنارس) میں طلباء کو پڑھارہے ہیں۔ اس اثنا میں ان سے بے شمار طلباء نے کسب علم کیا۔ صحیح معنوں میں ان کا مقام استاذ الاساتذہ کا ہے۔ ان کے تلامذہ میں بہت سے حضرات اپنے ملک ہندوستان اور ہندوستان سے باہر (پورپ،امریکہ، افریقہ اور عرب کے) مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں بعض درس وتدریس میں مشغول ہیں،بعض نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کررکھا ہے،بعض تقریر وخطابت میں سرگرم عمل ہیں، بعض افتا اور تحقیق میں مصروف ہیں۔ان کے تلامذہ کی وسیع فہرست میں مولانا صلاح الدین مقبول احمد بھی شامل ہیں جو کویت میں اقامت گزیں ہیں اور وہاں تصنیف و تحقیق اور تحریر و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا صلاح الدین کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
مرکز جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم اعلیٰ اور مجلہ ترجمان دہلی کے مدیر اعلیٰ مولانا اصغرعلی امام مہدی کا شمار بھی ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نہایت فعال اور اسلام کے سرگرم عمل مبلغ ہیں۔ اپنے ملک میں تو وہ اسلام کی خدمت کرہی رہے ہیں انہوں نے ملک کے باہر بھی کئی مرتبہ اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر مختلف اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کئی علمی مجلسوں اور متعدد ادبی و ثقافتی اداروں کے رکن ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
*علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ اور مشاورتی کونسل
*ہندوستان کی اسلامی پرسنل لا کمیٹی
*مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ
*رابطہ ادب اسلامی ہند
*ہندوستان کی اسلامی تعلیمات کی نگہداشت کی کمیٹی
*جامعہ محمدیہ ممبئی کی تعلیمی کمیٹی
*ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ کے نگراں
ڈاکٹر صاحب اسلامی تعلیمات کے ان تھک داعی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو گوناگوں اوصاف سے بہرہ مند کیا ہے۔ وہ بے حد محنت اور اخلاص سے حالات کی روشنی میں کام کررہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ و ذیوغ کا وہ خوب تجربہ رکھتے ہیں اور اس معاملے میں اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ وہ بہ یک وقت مصنف بھی ہیں، مترجم بھی ہیں، مدرس بھی ہیں، مقرر بھی ہیں، منتظم بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی دراز فرمائے اور انہیں ہر میدان عمل میں کامیابی سے نوازے۔
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے بارے میں یہ مختصر سی معلومات مولانا صلاح الدین مقبول احمد(کویت) کے ایک علمی مضمون کا ترجمہ ہے جوانہوں نے ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’حجۃ الحدیث النبوی‘‘ پر لکھا ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی اردو تصنیف ’’حجیت حدیث‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔ اگر اس سے زیادہ معلومات حاصل ہوجائیں تو ان شاء اللہ بشرطِ زندگی کسی دوسری کتاب میںآجائیں گی۔مثلا ان کے طالب علمی کے زمانے کے اہم واقعات، بنارس اور کسی دوسری جگہ پیش آنے والے واقعات، قیام مصر کے زمانے کی کوئی خاص بات۔۔۔ اس قسم کی باتیں اردو میں دستیاب ہوجائیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ کتابوں کے نام اردو ہی میں آنے چاہئیں، ان کا عربی ترجمہ سمجھنے میں بعض اوقات دقت پیش آتی ہے۔ اسی طرح کمیٹیوں اور اداروں کے نام بھی اردومیں لکھے جائیں جو کہ ان کے اصل نام ہیں۔ ان کے عربی ترجمے کو صحیح طور سے اردو میں منتقل کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
مولانا صلاح الدین مقبول احمد کے مضمون کاترجمہ قارئین کے مطالعہ میں آیا۔ اب اپنے متعلق خود ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ کے چند ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔ ڈاکٹر صاحب نے مولانا محمد اسماعیل سلفی کی کتاب حجیت حدیث (حجیۃ الحدیث النبوی) پر ’’کلمۃ المترجم‘‘ کے عنوان سے جو سطور عربی میں تحریر فرمائی ہیں، ان کا ترجمہ جناب ابوبکر ظفر (دارالدعوۃ السلفیہ شیش محل روڈ،لاہور) نے کیا۔ یہ ترجمہ ان کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس اور عربی مجلہ ’’صوت الجامعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داری کے زمانے کاذکر ہے کہ میں نے بہ توفیق الٰہی مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی چند کتب کا عربی ترجمہ کیا تھا، ان میں پہلی کتاب ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘ ہے، جس کا اردو نام ’’تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘ ہے۔
اس ترجمے کی ابتداء بظاہر معمولی لیکن اہم اور مناسب واقعہ سے ہوئی۔ یہ واقعہ ہمیشہ میرے سامنے رہا ہے:
ایک روز مدیر الجامعہ شیخ عبدالوحید عبدالحق سلفی نے مذکورہ کتاب کا اولین ایڈیشن مجھے دیا، میں نے اسے باربار پڑھایہ کتاب مجھے بہت پسند آئی۔ پھر کچھ احباب و رفقاء سے مشورہ کرکے اس کا عربی ترجمہ شروع کردیا گیا جو اس زمانے میں ’’صوت الجامعہ‘‘ میں بالاقساط شائع ہوا اور قارئین نے اس کی تحسین کی۔
ترجمے کی تکمیل پر میری درخواست کے مطابق مولانا عبیداللہ رحمانی نے اس پر نہایت فاضلانہ مقدمہ لکھا اور مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے حالات زندگی کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل حکم کے بعد یہ ایڈیشن ۱۳۶۷ھ میں شائع ہوا۔
اردو کے دوسرے ایڈیشن میں اضافوں کی وجہ سے ہم نے عربی میں بھی اضافہ کیا اور ڈاکٹرعبدالرحمن فریوائی نے اس دوران مراجعت کرنے میں مجھ سے تعاون فرمایا۔ اردو کی طرح عربی ایڈیشن نے بھی قارئین کرام میں قبول عام حاصل کیا۔
سلفی دعوت اور تحریک وتاریخ جیسے اہم موضوع کو دیکھنے اورپڑھنے والے محققین اس کتاب سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کی اتنی مقبولیت دیکھ کر مجھے یہ شوق پیدا ہوا کہ مولانا سلفی رحمہ اللہ کی بقیہ تصانیف بھی عربی میں ترجمہ کرکے شائع کی جائیں تاکہ برصغیر میں جماعت اہل حدیث کی تگ وتاز سے اہل عرب بھی آگاہ ہوں اور جو کوششیں اس جماعت نے سنت کے پھیلاؤ اور اس کے دفاع میں کی ہیں نیز بدعات اور شرک کے خاتمے کے لئے جو وسائل اختیار کئے ہیں، ان کا عربی دان لوگوں کو پتہ چلے۔
۱۴۰۱ھ میں مولانا سلفی رحمہ اللہ کے چار مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی، یہ کتاب بھی بہت مقبول ہوئی، بالخصوص محدثین کا منہج واضح کرنے میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔
اس مجموعے کا ایک مقالہ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ہے۔ چونکہ اہل حدیث کا نظریہ اس سے مختلف ہے اس لئے مولانا صلاح الدین مقبول احمد نے اس مقالے کا عربی ترجمہ کرکے کویت سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ میں نے پوری کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مندرجہ بالا مقالے کے علاوہ باقی مقالات کا ترجمہ کیا۔ نیز کچھ احباب کے مشورے سے اس موضوع سے متعلق دوسرے مضامین کا ترجمہ کرکے اس کتاب میں شامل کردیا تاکہ اہل عرب مولانا سلفی رحمہ اللہ کی مساعی جمیلہ سے پوری طرح آگاہی حاصل کرسکیں۔
ترجمے کا یہ کام تقریباً پندرہ سال پہلے ہی مکمل ہوچکا تھا لیکن نظر ثانی کے انتظار میں آج تک التوا کا شکار رہا۔ اب اللہ کی توفیق سے نظر ثانی کا کام مکمل کرکے، عبارتوں کا اصل ماخذ سے موازنہ کرکے اور تسامحات کی درستی کے بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔
علاوہ ازیں بعض شخصیات اور قابل وضاحت عبارتوں پر حواشی بھی لکھے ہیں، جنھیں آئندہ اشاعت کے لئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس اشاعت میں حصہ لینے والے تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔
ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ایک شہر کا نام مؤ ناتھ بھنجن ہے جو کپڑے کی صنعت،علمی مراکز اور علمائے دین کا مسکن ہونے کی بنا پر صدیوں سے مشہور ہے۔ اس شہر کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں سلفی حضرات کے تین بڑے مدارس قائم ہیں۔ ایک جامعہ عالیہ عربیہ، دوسرا جامعہ اسلامیہ جسے مدرسہ فیض عام کہا جاتا ہے اور تیسرا جامعہ اثریہ۔ ان کے علاوہ چھوٹی سطح کے متعدد مدارس جاری ہیں۔
وہاں کے بڑے مدارس نے اس نواح میں بے حد شہرت پائی۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں سے طلبا ان میں داخل ہوئے اور انہوں نے علوم دینیہ حاصل کئے۔ پھر وہ تصنیف وتالیف، دعوت وارشاد اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کی خدمات کے دائرے علم وعمل کے مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
اسی علمی اور صنعتی شہر(مؤ ناتھ بھنجن)کے ایک سلفی خاندان کے ممتاز عالم دین ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری ہیں جو ۱۸؍اگست ۱۹۳۹ء کو پیدا ہوئے اور خالص علمی فضا اور مجمع علما میں پلے بڑھے۔
تعلیم کا آغاز مدرسہ دارالعلوم سے کیا جو مرزا ہادی پورہ کی شاخ ہے۔ (۱)۱۹۵۳ء میں وہاں سے حفظ قرآن کی سند لی۔ پھر اسی شہر کے مختلف سلفی مدارس میں تعلیمی مراحل طے کئے۔ جامعہ عالیہ عربیہ سے ۱۹۵۹ء میں درجہ ثانویہ کی سند حاصل کیااور ۱۹۶۲ء میں وہاں کی جامعہ اثریہ سے سند فراغت سے بہرہ یاب ہوئے۔ ۱۹۵۹ء اور ۱۹۶۲ء کے درمیانی عرصے میں صوبہ یوپی کے سرکاری تعلیمی بورڈ میں ’’مولوی، مولوی عالم اور مولوی فاضل‘‘ کے امتحانات دئے اور ان میں کامیاب ہوئے۔
اس کے بعد مصر گئے اور جامعہ ازہرمیں داخلہ لیا۔ ۱۹۶۶ء میں وہاں کے شعبہ اصول الدین میں ایم اے کی سند حاصل کی پھر جامعہ ازہر ہی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، لیکن اس اثنا میں حالات ایسے پیدا ہوئے کہ اپنے وطن (ہندوستان) واپس آگئے اور سلسلۂ تدریس شروع کردیا۔ اسی اثنا میں ان کے دل میں اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کا جذبہ ابھرا تو۱۹۷۲ء میں ایم فل کیا۔ پھر اس سے تین سال بعد ۱۹۷۵ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ادب عربی‘‘ میں پی ایچ ڈی کی سند لی۔ اس طرح ان کا طویل تعلیمی سفر اختتام کو پہنچا اور انہوں نے ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے نام سے شہرت پائی۔
اپنے تعلیمی مراحل کے مختلف حصوں میں انہوں نے جن علماء و شیوخ سے استفادہ کیا، ان میں ڈاکٹر عبدالعلی، شیخ عبدالمعید، شیخ شمس الحق سلفی، شیخ عبدالرحمن، شیخ حبیب الرحمن فیضی، شیخ عظیم اللہ،شیخ عبداللہ شائق، شیخ ابوالقاسم فیضی، ڈاکٹر علی عبدالواحد وافی اور ڈاکٹر شوقی ضیف شامل ہیں۔
۱۹۶۸ء میں ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کو جامعہ سلفیہ(بنارس) کی تدریسی جماعت میں شامل کیا گیا۔ اس وقت جامعہ کے ناظم اعلیٰ شیخ عبدالوحید سلفی تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب ممدوح کے نبوغ و فراست اور ان کی صلاحیت و قابلیت کا اندازہ کرلیا تھا۔ پھر انہیں جامعہ کے وکیل کا منصب عطا کیا گیا۔ جامعہ کا عربی مجلہ’’صوت الامۃ‘‘ ۱۹۶۹ء میں جاری ہوا تو انہیں اس کا چیف ایڈیٹر بنادیا گیا۔ اس مجلے کا وہ اداریہ بھی لکھتے اور مضامین بھی سپر قلم کرتے ہیں یہ انتہائی اہم کام ہے جو وہ باقائدگی سے کررہے ہیں۔ جامعہ کے تحقیقی و تصنیفی ادارے کا نام ’’ادارۃ البحوث الاسلامیہ‘‘ ہے ، جس کی طرف سے اب تک عربی، اردو، ہندی اور انگریزی میں چارسو سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ڈاکٹر صاحب اس بہت بڑے ادارے کے نگراں ہیں اور ہرکتاب پر جچے تلے الفاظ میں مقدمہ تحریر فرماتے ہیں۔
اللہ نے ان کو زبان و اسلوب کی نعمت سے بھی نوازا ہے اور معلومات کی دولت بھی عطا فرمائی ہے۔ وہ مختلف رسائل و جرائد میں اردو اور عربی دونوں زبانوں میں اظہار رائے کرتے ہیں اور قارئین شوق اور دلچسپی سے ان کے مضامین پڑھتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے تحریر فرمودہ مضامین و مقالات کی تعداد پانچ سو سے آگے نکل چکی ہے۔
اب ان کی تصانیف کی طرف آیئے۔
(۱)۔۔۔ تاریخ ادب عربی: یہ کتاب پانچ جلدوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
(۲)۔۔۔ عورت کے متعلق اسلام کا نظریہ: اس موضوع کی یہ ایک قابل قدر کتاب ہے۔
(۳)۔۔۔ ادب کی حقیقت
(۴)۔۔۔ مسلمان اور اسلامی ثقافت
(۵)۔۔۔ دور حاضر میں نوجوان مسلم کی ذمہ داری
(۶)۔۔۔ معاصر کتابوں اور تاریخ کی روشنی میں بابری مسجد کا سانحہ۔
ان اردو کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نے متعدد عربی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا، ان کتابوں میں مندرجہ ذیل کتابوں کو خاص اہمیت حاصل ہے:
(۱)۔۔۔ اقتضاء الصراط المستقیم: یہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے اردوزبان میں ترجمہ کیا۔
(۲)۔۔۔ مختصر زاد المعاد: یہ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تصنیف ہے۔
(۳)۔۔۔ اصلاح المساجد: یہ شیخ جمال الدین قاسمی کی تالیف ہے۔
(۴)۔۔۔ فتاویٰ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اردو میں اختصار۔
ان کے علاوہ متعدد اہم اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ ان کتابوں میں بعض کتابیں یہ ہیں:
(۱)۔۔۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین : یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فارسی تصنیف ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے عربی زبان میں ترجمہ کیا۔
(۲)۔۔۔ رحمت للعالمین: یہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی نبی ﷺ کی سیرتِ مقدسہ کے موضوع پر اردو زبان میں تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے، جسے بے حد شہرت اور قبولیت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔
(۳)۔۔۔ تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی: یہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم کی اردو تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجھود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘کے نام سے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔
(۴)۔۔۔ حجیت حدیث: یہ بھی حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تصنیف ہے، جسے ڈاکٹر صاحب ممدوح نے عربی کے قالب میں ڈھالا۔ اس کتاب کے چار باب ہیں:
باب اول: حدیث کی تشریعی اہمیت
باب دوم: جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث
باب سوم: سنت، قرآن کے آئینے میں
باب چہارم: حجیت حدیث نبیﷺ کی سیرت کی روشنی میں
اب ڈاکٹر صاحب کے تلامذہ کی طرف آتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ممدوح کی تدریس کا سلسلہ ان کے جامعہ ازہر میں داخلے سے قبل سے چلتا ہے۔ اپنے وطن کے مدارس سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۲ء تک جامعہ اسلامیہ(فیض عام) مؤناتھ بھنجن کی مسند درس پر دوسال متمکن رہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں (جب پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے تھے) دوسال وہاں عربی ادب کا مضمون پڑھایا۔
اس کے بعد ۱۹۶۸ء سے اب تک مسلسل جامعہ سلفیہ (بنارس) میں طلباء کو پڑھارہے ہیں۔ اس اثنا میں ان سے بے شمار طلباء نے کسب علم کیا۔ صحیح معنوں میں ان کا مقام استاذ الاساتذہ کا ہے۔ ان کے تلامذہ میں بہت سے حضرات اپنے ملک ہندوستان اور ہندوستان سے باہر (پورپ،امریکہ، افریقہ اور عرب کے) مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں بعض درس وتدریس میں مشغول ہیں،بعض نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کررکھا ہے،بعض تقریر وخطابت میں سرگرم عمل ہیں، بعض افتا اور تحقیق میں مصروف ہیں۔ان کے تلامذہ کی وسیع فہرست میں مولانا صلاح الدین مقبول احمد بھی شامل ہیں جو کویت میں اقامت گزیں ہیں اور وہاں تصنیف و تحقیق اور تحریر و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا صلاح الدین کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
مرکز جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم اعلیٰ اور مجلہ ترجمان دہلی کے مدیر اعلیٰ مولانا اصغرعلی امام مہدی کا شمار بھی ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نہایت فعال اور اسلام کے سرگرم عمل مبلغ ہیں۔ اپنے ملک میں تو وہ اسلام کی خدمت کرہی رہے ہیں انہوں نے ملک کے باہر بھی کئی مرتبہ اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر مختلف اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کئی علمی مجلسوں اور متعدد ادبی و ثقافتی اداروں کے رکن ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
*علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ اور مشاورتی کونسل
*ہندوستان کی اسلامی پرسنل لا کمیٹی
*مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ
*رابطہ ادب اسلامی ہند
*ہندوستان کی اسلامی تعلیمات کی نگہداشت کی کمیٹی
*جامعہ محمدیہ ممبئی کی تعلیمی کمیٹی
*ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ کے نگراں
ڈاکٹر صاحب اسلامی تعلیمات کے ان تھک داعی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو گوناگوں اوصاف سے بہرہ مند کیا ہے۔ وہ بے حد محنت اور اخلاص سے حالات کی روشنی میں کام کررہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ و ذیوغ کا وہ خوب تجربہ رکھتے ہیں اور اس معاملے میں اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ وہ بہ یک وقت مصنف بھی ہیں، مترجم بھی ہیں، مدرس بھی ہیں، مقرر بھی ہیں، منتظم بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی دراز فرمائے اور انہیں ہر میدان عمل میں کامیابی سے نوازے۔
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے بارے میں یہ مختصر سی معلومات مولانا صلاح الدین مقبول احمد(کویت) کے ایک علمی مضمون کا ترجمہ ہے جوانہوں نے ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’حجۃ الحدیث النبوی‘‘ پر لکھا ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی اردو تصنیف ’’حجیت حدیث‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔ اگر اس سے زیادہ معلومات حاصل ہوجائیں تو ان شاء اللہ بشرطِ زندگی کسی دوسری کتاب میںآجائیں گی۔مثلا ان کے طالب علمی کے زمانے کے اہم واقعات، بنارس اور کسی دوسری جگہ پیش آنے والے واقعات، قیام مصر کے زمانے کی کوئی خاص بات۔۔۔ اس قسم کی باتیں اردو میں دستیاب ہوجائیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ کتابوں کے نام اردو ہی میں آنے چاہئیں، ان کا عربی ترجمہ سمجھنے میں بعض اوقات دقت پیش آتی ہے۔ اسی طرح کمیٹیوں اور اداروں کے نام بھی اردومیں لکھے جائیں جو کہ ان کے اصل نام ہیں۔ ان کے عربی ترجمے کو صحیح طور سے اردو میں منتقل کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
مولانا صلاح الدین مقبول احمد کے مضمون کاترجمہ قارئین کے مطالعہ میں آیا۔ اب اپنے متعلق خود ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ کے چند ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔ ڈاکٹر صاحب نے مولانا محمد اسماعیل سلفی کی کتاب حجیت حدیث (حجیۃ الحدیث النبوی) پر ’’کلمۃ المترجم‘‘ کے عنوان سے جو سطور عربی میں تحریر فرمائی ہیں، ان کا ترجمہ جناب ابوبکر ظفر (دارالدعوۃ السلفیہ شیش محل روڈ،لاہور) نے کیا۔ یہ ترجمہ ان کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔
جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس اور عربی مجلہ ’’صوت الجامعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داری کے زمانے کاذکر ہے کہ میں نے بہ توفیق الٰہی مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی چند کتب کا عربی ترجمہ کیا تھا، ان میں پہلی کتاب ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘ ہے، جس کا اردو نام ’’تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘ ہے۔
اس ترجمے کی ابتداء بظاہر معمولی لیکن اہم اور مناسب واقعہ سے ہوئی۔ یہ واقعہ ہمیشہ میرے سامنے رہا ہے:
ایک روز مدیر الجامعہ شیخ عبدالوحید عبدالحق سلفی نے مذکورہ کتاب کا اولین ایڈیشن مجھے دیا، میں نے اسے باربار پڑھایہ کتاب مجھے بہت پسند آئی۔ پھر کچھ احباب و رفقاء سے مشورہ کرکے اس کا عربی ترجمہ شروع کردیا گیا جو اس زمانے میں ’’صوت الجامعہ‘‘ میں بالاقساط شائع ہوا اور قارئین نے اس کی تحسین کی۔
ترجمے کی تکمیل پر میری درخواست کے مطابق مولانا عبیداللہ رحمانی نے اس پر نہایت فاضلانہ مقدمہ لکھا اور مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے حالات زندگی کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل حکم کے بعد یہ ایڈیشن ۱۳۶۷ھ میں شائع ہوا۔
اردو کے دوسرے ایڈیشن میں اضافوں کی وجہ سے ہم نے عربی میں بھی اضافہ کیا اور ڈاکٹرعبدالرحمن فریوائی نے اس دوران مراجعت کرنے میں مجھ سے تعاون فرمایا۔ اردو کی طرح عربی ایڈیشن نے بھی قارئین کرام میں قبول عام حاصل کیا۔
سلفی دعوت اور تحریک وتاریخ جیسے اہم موضوع کو دیکھنے اورپڑھنے والے محققین اس کتاب سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کی اتنی مقبولیت دیکھ کر مجھے یہ شوق پیدا ہوا کہ مولانا سلفی رحمہ اللہ کی بقیہ تصانیف بھی عربی میں ترجمہ کرکے شائع کی جائیں تاکہ برصغیر میں جماعت اہل حدیث کی تگ وتاز سے اہل عرب بھی آگاہ ہوں اور جو کوششیں اس جماعت نے سنت کے پھیلاؤ اور اس کے دفاع میں کی ہیں نیز بدعات اور شرک کے خاتمے کے لئے جو وسائل اختیار کئے ہیں، ان کا عربی دان لوگوں کو پتہ چلے۔
۱۴۰۱ھ میں مولانا سلفی رحمہ اللہ کے چار مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی، یہ کتاب بھی بہت مقبول ہوئی، بالخصوص محدثین کا منہج واضح کرنے میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔
اس مجموعے کا ایک مقالہ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ہے۔ چونکہ اہل حدیث کا نظریہ اس سے مختلف ہے اس لئے مولانا صلاح الدین مقبول احمد نے اس مقالے کا عربی ترجمہ کرکے کویت سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ میں نے پوری کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مندرجہ بالا مقالے کے علاوہ باقی مقالات کا ترجمہ کیا۔ نیز کچھ احباب کے مشورے سے اس موضوع سے متعلق دوسرے مضامین کا ترجمہ کرکے اس کتاب میں شامل کردیا تاکہ اہل عرب مولانا سلفی رحمہ اللہ کی مساعی جمیلہ سے پوری طرح آگاہی حاصل کرسکیں۔
ترجمے کا یہ کام تقریباً پندرہ سال پہلے ہی مکمل ہوچکا تھا لیکن نظر ثانی کے انتظار میں آج تک التوا کا شکار رہا۔ اب اللہ کی توفیق سے نظر ثانی کا کام مکمل کرکے، عبارتوں کا اصل ماخذ سے موازنہ کرکے اور تسامحات کی درستی کے بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔
علاوہ ازیں بعض شخصیات اور قابل وضاحت عبارتوں پر حواشی بھی لکھے ہیں، جنھیں آئندہ اشاعت کے لئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس اشاعت میں حصہ لینے والے تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔
Saturday, March 13, 2010
ملی ترقی کے تقاضے--
--ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہری
اکیسویں صدی کے حوالہ سے ایک سوال مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق اٹھایا جارہا ہے،یہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے، اس سے پہلے بھی ’’اسباب زوال امت‘‘ کے عنوان سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے،اہل علم نے مقالے اور کتابیں بھی لکھی ہیں، اگر غورکیا جائے تو اس طرح کے سوال کو اٹھانا اور اس طرح کی فکر مندی رکھنا اچھی علامت ہے۔ کویت کے ہفت روزہ المجتمع میں اسی موضوع پر ایک مضمون شائع ہواہے جس کا عنوان چبھتا ہوا ہے، کاش اس چبھن کو عالم اسلام کا ہر فرد اور ہر جماعت محسوس کرے! عنوان کچھ اس طرح ہے: ’’اکیسویں صدی کی ایجادات ۔۔۔ہم فہرست میں سب سے نیچے کیوں؟‘‘
یقیناًنتازع للبقاء کے دور میں مادی و روحانی ہر طرح کی ترقی ضروری ہے اور میدان میں جتنی اقوام موجود ہیں ان کے مقابلہ میں امت مسلمہ کو برتریاکم از کم مساوی درجہ میں ہونا چاہئے، اگر امت دیگر اقوام کے مقابلہ میں ’’مجبور ومحتاج‘‘ حیثیت رکھتی ہو تو اسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے میں دشواری پیش آئے گی، جو اقوام خود کو ’’برتر‘‘ تصور کرتی ہیں وہ ’’کمتر‘‘ قوم کی بات پر توجہ نہ دیں گی۔ لیکن اس حساس ونازک نقطہ پر غور کرتے ہوئے اس مقصد تخلیق کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے جس کا ذکر سورہ ذاریات کی ۵۶نمبر کی آیت میں ہے، روحانی و مادی ترقی کے مابین ہمیں توازن پیدا کرنا ضروری ہے، صرف ایک پہلو پر توجہ دے کر دوسرے پہلو کو نظر انداز کردینا ہمارے ملی وتہذیبی وجود کے لئے خطرہ ہے، جو اہل علم اصلاح و ترقی کی گفتگو میں صرف کسی ایک پہلو پر توجہ دیتے ہیں اور دوسرے کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کردیتے ہیں ان کے ذریعہ امت کی ترقی کا پروگرام تکمیل پذیر نہیں ہوسکتا، میدان میں اگر دوسری قومیں موجود ہوں تو یہ ہماری آزمائش ہے جس سے سرخروئی کے ساتھ عہد بر آ ہونا ہمارا فرض ہے۔
اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو جو ملک یا کمپنیاں ایجادات کے میدان میں آگے ہیں ان کی اقتصادی حالت بھی مضبوط ہے، دوسروں کی جیب سے پیسے نکل کر انہیں کے پاس جاتے ہیں، صنعتی میدان کی ترقی کو اسی لئے اہمیت دی جارہی ہے، نئی مصنوعات کی وجہ سے صارفین کی ضرورت بھی بدل جاتی ہے اور ہر نئی چیز انہیں اپنی طرف مائل کرتی ہے۔
جس مضمون کی جانب اشارہ گزرا اس میں ذکر ہے کہ آج دنیا میں ۷ء۵ ملین ایجادات مرحلۂ تنفیذ میں داخل ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ہمارا حصہ کس قدر ہے اور ہم کیوں پیچھے ہیں؟
مسلم ممالک کے پاس دولت ہے اور وہ دولت خرچ بھی ہوتی ہے، لیکن حساب اس بات کا لگانا ہے کہ ان کی دولت کا کتنا حصہ سائنس و ٹکنالوجی سے متعلق تعلیم وتحقیق پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا حصہ اسلحہ ،ادویہ اور دیگر سامانوں کی درآمد میں خرچ ہوتا ہے۔
ادارہ اقوام متحدہ کی ماتحت تنظیم (Wipo)دنیا کی ایجادات پر نظر رکھتی ہے، اس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس دنیا نے سولہ لاکھ ایجادات کو پیش کیا لیکن صرف چھ لاکھ کو منظوری حاصل ہوئی، سرٹیفیکٹ کا مطالبہ کرنے والے ممالک کو دیکھا جائے تو جاپان سرفہرست ہے، پھر امریکہ کا درجہ اور ان دونوں ملکوں کے بعد چین ، کوریا اور یورپ کے نام آتے ہیں اور ان پانچوں ملکوں کو دنیا کی ایجادات سے متعلق مطالبہ کی مجموعی تعداد ۷۷؍فیصد کا تناسب حاصل ہے، ۷۴؍فیصد ایجادات کو سرٹیفیکٹ سے نوازا گیا ہے، لیکن ان میں کوئی عرب یا مسلم ملک نہیں۔
اس سلسلہ میں چین دوسرے ملکوں سے آگے نظر آتا ہے، پیٹنٹ کے مطالبہ میں عالمی سطح پر اب اس کا نمبر جاپان اور امریکہ کے بعد تیسرا ہے، وہ اس سلسلہ میں کوریا، روس اور یورپ ہر ایک سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو اسرائیل پہلے نمبر پر آتا ہے، وہ سائنس سے متعلق ریسرچ میں ۹۳؍فیصد یعنی اپنی قومی آمدنی کا تقریباً پانچ فیصد خرچ کرتا ہے، مصر اس سلسلہ میں اسرائیل سے پچیس گنا پیچھے ہے!
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے مابین تفاوت زیادہ ہونے کے سبب ایک مصری عالم کہتے ہیں کہ: صلاحیت کے لحاظ سے قوموں کے بیچ بہت زیادہ فرق نہیں، مغرب کی طرح مشرق میں بھی باصلاحیت لوگ موجود ہیں، فرق یہ ہے کہ یورپ و امریکہ میں جمہور کی قیادت ہوشمندوں اور صلاحیت والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اس کے برخلاف مشرق کے مسلم ملکوں میں ملت کی ترقی سے بے نیاز لوگ اقتدار پر قابض ہیں، ان کے اصول میں ذاتی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ذمہ داریاں تقسیم کرتے وقت بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے، صلاحیت کی بنیاد پر ذمہ داری دی جائے اور اس سلسلہ میں کسی اور چیز کو پیش نظر نہ رکھا جائے۔
ایک عرصہ تک مسلم ممالک میں وسائل کی کمی کا شکوہ کیا جاتاتھا، لیکن مختلف تحقیقات کے نتیجہ میں اب ’’بندۂ مومن کی بے زری‘‘ کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ لوگوں کا معیار زندگی دیکھ کر بھی کوئی تصدیق نہ کرے گا کہ مسلم ممالک میں عوام غربت کا شکار ہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کا حال اکثر مسلم ممالک کے حال سے بہتر ہے۔ دولت کی صحیح تقسیم اور تعمیر مقاصد میں اس کے استعمال کے بعد ایک مسئلہ بحث و تحقیق کی آزادی کا ہے، جو لوگ علم وتحقیق کے جوہر سے آراستہ ہیں ان کے لئے پر امن ماحول اور باوقار فضا کی یقین دہانی ہونی چاہئے اور ان کے تحقیقی منصوبوں کے لئے جس نوعیت کے وسائل کی ضرورت ہو انہیں ان کی مرضی کے مطابق فراہم ہونا چاہئے۔
اس وقت عالمی تجارت کی حوصلہ افزائی کا جو انداز ہے اس میں کمزور طبقہ کے لئے زیادہ فائدہ نہیں، بلکہ عام حالات میں وہ محروم رہتا ہے، اسی طرح محنت کش طبقہ بھی درمیانی اور اعلیٰ سطح کے تاجروں کے مقابلہ میں پامالی کا شکار رہتا 58ہے۔ اسلام نے جو مالیاتی نظام ترتیب دیا ہے اور جس طرح سماجی تعاون و تکافل کی تعلیم دی ہے اس کو بھی معاشرہ میں متعارف کرانا ضروری ہے، افراد کی خوشحالی و ترقی یقیناًمعاشرہ کی ترقی پر منتج ہوگی۔
ترقی کے لئے ملت کی جد وجہد کی بات آئی تونومبر ۱۹۸۸ء کی ایک خبر سامنے لانا ضروری ہے، اگر مسلم ممالک اس چیز کو اسی طرح اپنے پروگرام کا ضروری حصہ بنالیں تو جو خلا ہوگیا ہے اس کا پر ہونا مشکل نہ رہے گا۔
خبر کا عنوان یوں ہے:
سعودی ڈاکٹر کو امریکہ میں انعام۔
اور خبر کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ :
سعودی عرب کے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر نفیس الرضوان کو امریکہ میں دماغی امراض کی تحقیق میں ایک انتہائی اہم کامیابی پر بین الاقوامی انعام دیا گیاہے۔ ڈاکٹر نفیس الرضوان کو شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا تھا، انہوں نے امریکہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور تعلیم کے دوران کئی انعامات حاصل کئے، شاہ فیصل اسپتال اور تحقیقی مرکز سعودی عرب کے ۴۶ ڈاکٹروں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ ، کنیڈا اور یورپ بھیج چکا ہے۔
اس مقام پر دین اور ترقی میں اس کی تاثیر کے تعلق سے ایک مصری عالم و ادیب علامہ شیخ محمود محمد شاکر کے بعض تاثرات کو ذہن میں رکھنا مفید ہوگا تاکہ مادی ترقی کی رو میں اصل انسانی مسئلہ سے غفلت کا ارتکاب نہ ہوجائے۔ علامہ محمود شاکر رحمہ اللہ کو سعودی عرب نے عالمی فیصل ایوارڈ سے نوازا تھا متنبی پر موصوف کی کتاب کے شروع میں جو رسالہ شائع ہوا ہے اسے ذہن میں رکھنے سے ترقی اور اس کی بنیاد کے سلسلہ میں بعض سنگین غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔
موصوف نے ثقافت کے مسئلہ کو دین سے جوڑا ہے، کہتے ہیں کہ ثقافت کی اصل دین ہے جو فطری امر ہے، خواہ کوئی دین ہو۔ کسی خاص قوم کی بات نہیں، بلکہ زبان وثقافت کی حامل ہر قوم کے لئے اس اخلاقی اصل یعنی دین کا وجود ضروری ہے،ہمارے اسلاف نے اسی لئے دین پر توجہ مرکوز کی تھی کہ اس طرح ان کی ثقافت محفوظ رہے اور اس میں کہیں سے جھول نہ پیداہو۔
علامہ موصوف نے سولہویں صدی عیسوی کو ترقی کے عہد کا آغاز مانا ہے اور ان کی نظر میں اسلامی تہذیب کی قوت کا راز علم میں پوشیدہ ہے اور اس سے دنیا و آخرت دونوں کا علم مراد ہے۔
یورپ کے ترقی کے سلسلہ میں علامہ کا نقطۂ نظر بیحد واضح ہے، فرماتے ہیں کہ دارالسلام (اندلس اور مصر وعراق) سے علوم کا ذخیرہ یورپ پہنچا اور اقوام یورپ نے صبر و استقلال کے ساتھ ان علوم سے استفادہ کیا، مذہبی زندگی میں جو ناہمواریاں پیدا ہوگئی تھیں انہیں دور کیا، دارالسلام سے مخطوطات کے ذخیروں کو اپنے قبضہ میں کیا اور اپنی قوم کو ان سے استفادہ کی ترغیب دی اور اس طرح چشم زدن میں نہیں بلکہ بتدریج ان کی ترقی کا آغاز ہوا۔
موصوف نے ایک دلچسپ تعبیر یہ لکھی کہ اس وقت مسلم دنیا آنکھیں کھولے ہوئے سوئی ہوئی تھی اور اہل یورپ بیدار ہوچکے تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد مسلمانوں پر فتح کا خمار طاری تھا اور اہل یورپ عار مٹانے کے لئے عزم و ارادہ کے ساتھ سرگرم عمل تھے۔
خاکسار کو پچھلے کسی موقع پر ’’آزادی کے بعد مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ‘‘کے عنوان سے اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی، اس کا براہ راست تعلق اسی عنوان سے ہے جس سے یہ بات شروع ہوئی ہے ، لہٰذا مناسب ہے کہ سابقہ (لیکن غیر مطبوعہ) تحریر کا وہ حصہ پیش کردیا جائے جس کا تعلق ترقی سے ہے۔ اس مضمون میں ایک حصہ تعلیم سے، دوسرا اقتصاد سے اور تیسرا سماج سے متعلق تھا، فی الحال صرف تعلیم سے متعلق حصہ پیش کیا جارہا ہے:
مختلف میدانوں میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن حالات کی سنگینی کے باعث شاید اس پیش رفت کی کمی کا احساس زیادہ ہے، لیکن یہ احساس چونکہ ترقی کے لئے مفید ہے اس لئے ا س کا برقرار رہنا ملی زندگی کے لئے بہتر ہے۔
ہماری ملی زندگی میں کسی بھی نوعیت کی پسماندگی کے لئے وجہ جواز فراہم کرنا مستحسن امر نہیں،لیکن تحلیل وتجزیہ کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں مانا جائے گا جب تک کہ ہر واقعہ کے حقیقی سبب کاذکر نہ ہو۔ اس لئے مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر نظر ڈالنا مناسب ہوگا کہ یہ پیش رفت تسلی بخش ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟
آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کے سامنے معمول کے مطابق حالات میں صرف جدو جہد سے ترقی کا سوال نہیں، بلکہ ان ۶۰؍برسوں میں آگے بڑھنے کے لئے ہمیشہ اس کو غیر معمولی اور سنگین حالات کا سامنا رہا اور ان میں سب سے سنگین مسئلہ امن وامان کا ہے، اگر معتدل اور ہموار حالات میں ترقی کی بات ہوتی تو ممکن ہے کہ ملت کا حال اس سے بہتر ہوتا، لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ ملت کی توجہ اور مال ودولت کا بڑا حصہ بدامنی کی نذر ہوجاتا ہے اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کے بجائے اندیشوں اور مایوسیوں کے ماحول میں لوگ سہمے سہمے کام کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ محنت ، توجہ اور دولت صرف کرنے کے باوجود حاصل کم نکلتا ہے۔
مسلمانوں کی تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لئے دینی و دنیوی دونوں طرح کی تعلیم کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ دونوں کے تقاضے اور مقاصد الگ الگ ہیں اور دونوں میں ملت کی پیش رفت بھی مختلف ہے۔
دینی تعلیم میں جو پیش رفت ہوئی ہے اسے مجموعی طور پر بہتر کہا جاسکتا ہے اور بالخصوص ظاہری لحاظ سے یہ پیش رفت قابل اطمینان نظر آتی ہے، کیونکہ عرب ممالک سے مسلمانوں کے تعلقات کی استواری کے بعد دینی تعلیمی اداروں کو مالی تعاون حاصل ہوا ہے، جس کے سبب ان اداروں کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے اور عمارتوں اور مدرسین کی تنخواہو کا معیار بہتر ہوا ہے، بہت سے جدید تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں اور قدیم اداروں نے اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔
ظاہری حیثیت سے دینی تعلیم میں پیش رفت کے تذکرہ کے بعد اس کی معنوی حیثیت پر ایک نظر ضروری ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ انسان باطن کے مقابلہ میں ظاہر پر توجہ کم دیتا ہے، یہ چیزیہاں بھی نظر آتی ہے، یعنی آزادی کے بعد دینی مدارس نے اپنی ظاہری حالت جس حد تک سدھاری ہے، اتنا سدھار معنوی حالت میں نہیں ہوا ہے، موجودہ دور میں جس اعلیٰ تعلیمی معیار، بالغ نظر علماء، مدلل و دل کش دینی لٹریچر اور مؤثر انداز تبلیغ کی ضرورت ہے وہ ان مدارس سے پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ شاہ بانو کیس کے بعد مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی سماجی اصلاح کا خیال ضرور پیدا ہوا ہے، لیکن یہ خیال کمزور اور وقتی دباؤ کے اثر جیسا محسوس ہوتا ہے۔
مدارس کے تئیں یہ احساس عام ہے کہ انہوں نے دینی تعلیم کے میدان میں تعلیم و اشاعت کے جدید ذرائع سے فائدہ نہیں حاصل کیا اور تعلیمی نظام میں ایسی سبیل نہیں پیدا کی جس سے لوگوں کی دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہو۔ جنگ آزادی کی تاریخ میں ہمیں علماء کی بڑی تعداد نظر آتی ہے، انہوں نے پوری بصیرت و ہمت کے ساتھ سیاسی میدان میں مسلم عوام کی قیادت کی اور انہیں اسلام سے وابستہ رہتے ہوئے انگریزوں کے مقابلہ اور ملحد مغربی تہذیب سے دور رہنے کی ترغیب دی۔ تحریک شہیدین (سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ) اور علماء صادق پور کے حالات کا مطالعہ کرنے سے نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کی ہر نوعیت کی رہنمائی کو ان علماء نے ضروری قرار دیا تھا اور اکثر علماء اس میں عملی طور پر شریک تھے۔لیکن آزادی کے بعد علماء کا کردار اتنا مؤثر نظر نہیں آتا، مسائل تو متعدد اور ہر نوعیت کے ہیں، لیکن میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے علماء موجود نہیں، ان کا دائرہ کار تعلیمی میدان تک محدود ہے اور بہت محدود طور پر وہ عام دینی مسائل میں رائے دیتے ہیں، لیکن سیاست و اقتصاد سے متعلق ان کا کردار ناقابل ذکر ہے۔ اس خلاء کی وجہ سے ہماری سیاست اور اقتصاد دونوں پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا ہے جو مستقبل میں برے نتائج پیدا کرے گا۔ مسلمانوں کی رہنمائی کے فرض سے علماء کی علیحدگی کے نتیجہ میں مسلمانوں کی سیاسی واقتصادی قیادت کے لئے جو لوگ میدان میں آئے وہ اپنے فرض کو پورے طور پر ادا نہیں کرپا رہے ہیں،یا کسی اور سبب سے ان کی قیادت کامیاب نہیں ہے۔
دانشوروں میں ترقی کے موضوع پر سید حامد صاحب کے خیال سے واقفیت بے محل نہ ہوگی، موصوف نے حج ہاؤس ممبئی میں اکتوبر ۲۰۰۰ء میں ’’اکیسویں صدی میں سماجی خدمات: چیلنج و ترجیحات اسلامی نقطۂ نظر میں‘‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو ۴؍خارجی اور ۲؍داخلی خطروں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰؍ویں صدی میں دنیا کی برق رفتارترقی میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا اور وہ ہر طرح سے پسماندہ رہ گئے ہیں، وہ سر اٹھا کر نہیں چل پارہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی زبوں حالی پر غور کرنے کے لئے ماضی میں سیمینار اور اجلاس منعقد کئے گئے لیکن اس کے بعد عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور اس کے سبب ان اجتماعات کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ہے۔
سید حامد نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کا جواب عداوت سے نہیں دینا چاہئے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہتر سلوک سے دل بدل جاتے ہیں اور خدمت خلق کا جذبہ سبھی کے لئے ہونا چاہئے، اس میں تفریق نہ کی جائے۔
انہوں نے معاشرے میں فحاشی اور عریانیت کے اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے فتنے ہیں جن سے ہمارے نوجوانوں کو دور رکھنا ہوگا، ان فتنوں کے علاوہ ۲؍ایسے خطرے ہیں جو مسلم معاشرے کے داخلی خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔
سید حامد نے داخلی خطرات میں مسلکی اختلافات کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اختلافات شرمناک ہیں، اسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اختلافات ممبئی، حیدرآباد،دہلی وغیرہ سے نکل کر برمنگھم اور شکاگو تک پہنچ گئے، اس کا حل یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کریں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں، انہوں نے شمالی ہندمیں برادری واد کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ اہل سیاست اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں کامیاب ہونے نہیں دینا چاہئے۔
جامعہ ہمدرد کے چانسلر نے کہا کہ رائے عامہ نہ ہونے کی سزا بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے، اس کی وجہ سے ارباب اقتدار پر مسلمانوں کی بات کا وزن نہیں پڑتا، اپنی بات منوانے کے لئے رائے عامہ بنانا نہایت ضروری ہے، اس کے لئے ایک عرصہ قبل مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالی گئی مگر اختلافات نے اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔
انہوں نے اچھی اور مؤثر قیادت کے فقدان کا ایک سبب یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے قیادت کو ہمیشہ شک وشبہ کی نظر سے دیکھا ہے، اچھی قیادت کے لئے انہیں اپنے قائدپر اعتماد کرنا ہوگا اور اس کی نیت پر شبہ نہ کیا جانا چاہئے، اس کے علاوہ ہمیں ادارے چلانے کا شعور نہیں ہے، جو بدنظمی کے ساتھ ساتھ بھائی بھتیجہ واد کا شکار ہیں۔ سید حامد نے تعلیم سے کنارہ کشی کو مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ ایک انگریز مورخ کا کہنا ہے کہ ۸ویں صدی سے ۱۳ویں صدی تک سائنسی ایجاد مسلمانوں نے کی ہیں، آج نوبدھسٹ اور مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، اس لئے اب ہمیں ناخواندگی دور کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے، اس میدان میں خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا چاہئے، تعلیم کے سلسلے میں جدید تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی تو مسلمان کافی پچھڑ جائیں گے۔
حفظان صحت اور اصلاح معاشرہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سید حامد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس تعلق سے چلائی جانے والی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کو اس پوزیشن میں ہونا چاہئے کہ اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکیں، اس کے لئے وطن کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہوا، کیونکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی کسی مذہب کی معلومات کے لئے اس کا مطالعہ نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کے ماننے والوں کی عادات اور اخلاق پر نظر رکھتا ہے۔
ان سطور کے اخیر میں عرض کرنا ضروری ہے کہ ملی ترقی مسلسل عمل واستقلال و پامردی اور امید و حوصلہ کا متقاضی ہے، اگر ملت ان اوصاف کو اپنے اندر پیداکرلے اور نیت کی درستگی کے ساتھ کام شروع کردے تو ناکامی کی کوئی وجہ نہیں، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔
--ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہری
اکیسویں صدی کے حوالہ سے ایک سوال مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق اٹھایا جارہا ہے،یہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے، اس سے پہلے بھی ’’اسباب زوال امت‘‘ کے عنوان سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے،اہل علم نے مقالے اور کتابیں بھی لکھی ہیں، اگر غورکیا جائے تو اس طرح کے سوال کو اٹھانا اور اس طرح کی فکر مندی رکھنا اچھی علامت ہے۔ کویت کے ہفت روزہ المجتمع میں اسی موضوع پر ایک مضمون شائع ہواہے جس کا عنوان چبھتا ہوا ہے، کاش اس چبھن کو عالم اسلام کا ہر فرد اور ہر جماعت محسوس کرے! عنوان کچھ اس طرح ہے: ’’اکیسویں صدی کی ایجادات ۔۔۔ہم فہرست میں سب سے نیچے کیوں؟‘‘
یقیناًنتازع للبقاء کے دور میں مادی و روحانی ہر طرح کی ترقی ضروری ہے اور میدان میں جتنی اقوام موجود ہیں ان کے مقابلہ میں امت مسلمہ کو برتریاکم از کم مساوی درجہ میں ہونا چاہئے، اگر امت دیگر اقوام کے مقابلہ میں ’’مجبور ومحتاج‘‘ حیثیت رکھتی ہو تو اسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے میں دشواری پیش آئے گی، جو اقوام خود کو ’’برتر‘‘ تصور کرتی ہیں وہ ’’کمتر‘‘ قوم کی بات پر توجہ نہ دیں گی۔ لیکن اس حساس ونازک نقطہ پر غور کرتے ہوئے اس مقصد تخلیق کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے جس کا ذکر سورہ ذاریات کی ۵۶نمبر کی آیت میں ہے، روحانی و مادی ترقی کے مابین ہمیں توازن پیدا کرنا ضروری ہے، صرف ایک پہلو پر توجہ دے کر دوسرے پہلو کو نظر انداز کردینا ہمارے ملی وتہذیبی وجود کے لئے خطرہ ہے، جو اہل علم اصلاح و ترقی کی گفتگو میں صرف کسی ایک پہلو پر توجہ دیتے ہیں اور دوسرے کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کردیتے ہیں ان کے ذریعہ امت کی ترقی کا پروگرام تکمیل پذیر نہیں ہوسکتا، میدان میں اگر دوسری قومیں موجود ہوں تو یہ ہماری آزمائش ہے جس سے سرخروئی کے ساتھ عہد بر آ ہونا ہمارا فرض ہے۔
اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو جو ملک یا کمپنیاں ایجادات کے میدان میں آگے ہیں ان کی اقتصادی حالت بھی مضبوط ہے، دوسروں کی جیب سے پیسے نکل کر انہیں کے پاس جاتے ہیں، صنعتی میدان کی ترقی کو اسی لئے اہمیت دی جارہی ہے، نئی مصنوعات کی وجہ سے صارفین کی ضرورت بھی بدل جاتی ہے اور ہر نئی چیز انہیں اپنی طرف مائل کرتی ہے۔
جس مضمون کی جانب اشارہ گزرا اس میں ذکر ہے کہ آج دنیا میں ۷ء۵ ملین ایجادات مرحلۂ تنفیذ میں داخل ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ہمارا حصہ کس قدر ہے اور ہم کیوں پیچھے ہیں؟
مسلم ممالک کے پاس دولت ہے اور وہ دولت خرچ بھی ہوتی ہے، لیکن حساب اس بات کا لگانا ہے کہ ان کی دولت کا کتنا حصہ سائنس و ٹکنالوجی سے متعلق تعلیم وتحقیق پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا حصہ اسلحہ ،ادویہ اور دیگر سامانوں کی درآمد میں خرچ ہوتا ہے۔
ادارہ اقوام متحدہ کی ماتحت تنظیم (Wipo)دنیا کی ایجادات پر نظر رکھتی ہے، اس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس دنیا نے سولہ لاکھ ایجادات کو پیش کیا لیکن صرف چھ لاکھ کو منظوری حاصل ہوئی، سرٹیفیکٹ کا مطالبہ کرنے والے ممالک کو دیکھا جائے تو جاپان سرفہرست ہے، پھر امریکہ کا درجہ اور ان دونوں ملکوں کے بعد چین ، کوریا اور یورپ کے نام آتے ہیں اور ان پانچوں ملکوں کو دنیا کی ایجادات سے متعلق مطالبہ کی مجموعی تعداد ۷۷؍فیصد کا تناسب حاصل ہے، ۷۴؍فیصد ایجادات کو سرٹیفیکٹ سے نوازا گیا ہے، لیکن ان میں کوئی عرب یا مسلم ملک نہیں۔
اس سلسلہ میں چین دوسرے ملکوں سے آگے نظر آتا ہے، پیٹنٹ کے مطالبہ میں عالمی سطح پر اب اس کا نمبر جاپان اور امریکہ کے بعد تیسرا ہے، وہ اس سلسلہ میں کوریا، روس اور یورپ ہر ایک سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو اسرائیل پہلے نمبر پر آتا ہے، وہ سائنس سے متعلق ریسرچ میں ۹۳؍فیصد یعنی اپنی قومی آمدنی کا تقریباً پانچ فیصد خرچ کرتا ہے، مصر اس سلسلہ میں اسرائیل سے پچیس گنا پیچھے ہے!
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے مابین تفاوت زیادہ ہونے کے سبب ایک مصری عالم کہتے ہیں کہ: صلاحیت کے لحاظ سے قوموں کے بیچ بہت زیادہ فرق نہیں، مغرب کی طرح مشرق میں بھی باصلاحیت لوگ موجود ہیں، فرق یہ ہے کہ یورپ و امریکہ میں جمہور کی قیادت ہوشمندوں اور صلاحیت والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اس کے برخلاف مشرق کے مسلم ملکوں میں ملت کی ترقی سے بے نیاز لوگ اقتدار پر قابض ہیں، ان کے اصول میں ذاتی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ذمہ داریاں تقسیم کرتے وقت بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے، صلاحیت کی بنیاد پر ذمہ داری دی جائے اور اس سلسلہ میں کسی اور چیز کو پیش نظر نہ رکھا جائے۔
ایک عرصہ تک مسلم ممالک میں وسائل کی کمی کا شکوہ کیا جاتاتھا، لیکن مختلف تحقیقات کے نتیجہ میں اب ’’بندۂ مومن کی بے زری‘‘ کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ لوگوں کا معیار زندگی دیکھ کر بھی کوئی تصدیق نہ کرے گا کہ مسلم ممالک میں عوام غربت کا شکار ہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کا حال اکثر مسلم ممالک کے حال سے بہتر ہے۔ دولت کی صحیح تقسیم اور تعمیر مقاصد میں اس کے استعمال کے بعد ایک مسئلہ بحث و تحقیق کی آزادی کا ہے، جو لوگ علم وتحقیق کے جوہر سے آراستہ ہیں ان کے لئے پر امن ماحول اور باوقار فضا کی یقین دہانی ہونی چاہئے اور ان کے تحقیقی منصوبوں کے لئے جس نوعیت کے وسائل کی ضرورت ہو انہیں ان کی مرضی کے مطابق فراہم ہونا چاہئے۔
اس وقت عالمی تجارت کی حوصلہ افزائی کا جو انداز ہے اس میں کمزور طبقہ کے لئے زیادہ فائدہ نہیں، بلکہ عام حالات میں وہ محروم رہتا ہے، اسی طرح محنت کش طبقہ بھی درمیانی اور اعلیٰ سطح کے تاجروں کے مقابلہ میں پامالی کا شکار رہتا 58ہے۔ اسلام نے جو مالیاتی نظام ترتیب دیا ہے اور جس طرح سماجی تعاون و تکافل کی تعلیم دی ہے اس کو بھی معاشرہ میں متعارف کرانا ضروری ہے، افراد کی خوشحالی و ترقی یقیناًمعاشرہ کی ترقی پر منتج ہوگی۔
ترقی کے لئے ملت کی جد وجہد کی بات آئی تونومبر ۱۹۸۸ء کی ایک خبر سامنے لانا ضروری ہے، اگر مسلم ممالک اس چیز کو اسی طرح اپنے پروگرام کا ضروری حصہ بنالیں تو جو خلا ہوگیا ہے اس کا پر ہونا مشکل نہ رہے گا۔
خبر کا عنوان یوں ہے:
سعودی ڈاکٹر کو امریکہ میں انعام۔
اور خبر کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ :
سعودی عرب کے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر نفیس الرضوان کو امریکہ میں دماغی امراض کی تحقیق میں ایک انتہائی اہم کامیابی پر بین الاقوامی انعام دیا گیاہے۔ ڈاکٹر نفیس الرضوان کو شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا تھا، انہوں نے امریکہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور تعلیم کے دوران کئی انعامات حاصل کئے، شاہ فیصل اسپتال اور تحقیقی مرکز سعودی عرب کے ۴۶ ڈاکٹروں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ ، کنیڈا اور یورپ بھیج چکا ہے۔
اس مقام پر دین اور ترقی میں اس کی تاثیر کے تعلق سے ایک مصری عالم و ادیب علامہ شیخ محمود محمد شاکر کے بعض تاثرات کو ذہن میں رکھنا مفید ہوگا تاکہ مادی ترقی کی رو میں اصل انسانی مسئلہ سے غفلت کا ارتکاب نہ ہوجائے۔ علامہ محمود شاکر رحمہ اللہ کو سعودی عرب نے عالمی فیصل ایوارڈ سے نوازا تھا متنبی پر موصوف کی کتاب کے شروع میں جو رسالہ شائع ہوا ہے اسے ذہن میں رکھنے سے ترقی اور اس کی بنیاد کے سلسلہ میں بعض سنگین غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔
موصوف نے ثقافت کے مسئلہ کو دین سے جوڑا ہے، کہتے ہیں کہ ثقافت کی اصل دین ہے جو فطری امر ہے، خواہ کوئی دین ہو۔ کسی خاص قوم کی بات نہیں، بلکہ زبان وثقافت کی حامل ہر قوم کے لئے اس اخلاقی اصل یعنی دین کا وجود ضروری ہے،ہمارے اسلاف نے اسی لئے دین پر توجہ مرکوز کی تھی کہ اس طرح ان کی ثقافت محفوظ رہے اور اس میں کہیں سے جھول نہ پیداہو۔
علامہ موصوف نے سولہویں صدی عیسوی کو ترقی کے عہد کا آغاز مانا ہے اور ان کی نظر میں اسلامی تہذیب کی قوت کا راز علم میں پوشیدہ ہے اور اس سے دنیا و آخرت دونوں کا علم مراد ہے۔
یورپ کے ترقی کے سلسلہ میں علامہ کا نقطۂ نظر بیحد واضح ہے، فرماتے ہیں کہ دارالسلام (اندلس اور مصر وعراق) سے علوم کا ذخیرہ یورپ پہنچا اور اقوام یورپ نے صبر و استقلال کے ساتھ ان علوم سے استفادہ کیا، مذہبی زندگی میں جو ناہمواریاں پیدا ہوگئی تھیں انہیں دور کیا، دارالسلام سے مخطوطات کے ذخیروں کو اپنے قبضہ میں کیا اور اپنی قوم کو ان سے استفادہ کی ترغیب دی اور اس طرح چشم زدن میں نہیں بلکہ بتدریج ان کی ترقی کا آغاز ہوا۔
موصوف نے ایک دلچسپ تعبیر یہ لکھی کہ اس وقت مسلم دنیا آنکھیں کھولے ہوئے سوئی ہوئی تھی اور اہل یورپ بیدار ہوچکے تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد مسلمانوں پر فتح کا خمار طاری تھا اور اہل یورپ عار مٹانے کے لئے عزم و ارادہ کے ساتھ سرگرم عمل تھے۔
خاکسار کو پچھلے کسی موقع پر ’’آزادی کے بعد مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ‘‘کے عنوان سے اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی، اس کا براہ راست تعلق اسی عنوان سے ہے جس سے یہ بات شروع ہوئی ہے ، لہٰذا مناسب ہے کہ سابقہ (لیکن غیر مطبوعہ) تحریر کا وہ حصہ پیش کردیا جائے جس کا تعلق ترقی سے ہے۔ اس مضمون میں ایک حصہ تعلیم سے، دوسرا اقتصاد سے اور تیسرا سماج سے متعلق تھا، فی الحال صرف تعلیم سے متعلق حصہ پیش کیا جارہا ہے:
مختلف میدانوں میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن حالات کی سنگینی کے باعث شاید اس پیش رفت کی کمی کا احساس زیادہ ہے، لیکن یہ احساس چونکہ ترقی کے لئے مفید ہے اس لئے ا س کا برقرار رہنا ملی زندگی کے لئے بہتر ہے۔
ہماری ملی زندگی میں کسی بھی نوعیت کی پسماندگی کے لئے وجہ جواز فراہم کرنا مستحسن امر نہیں،لیکن تحلیل وتجزیہ کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں مانا جائے گا جب تک کہ ہر واقعہ کے حقیقی سبب کاذکر نہ ہو۔ اس لئے مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر نظر ڈالنا مناسب ہوگا کہ یہ پیش رفت تسلی بخش ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟
آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کے سامنے معمول کے مطابق حالات میں صرف جدو جہد سے ترقی کا سوال نہیں، بلکہ ان ۶۰؍برسوں میں آگے بڑھنے کے لئے ہمیشہ اس کو غیر معمولی اور سنگین حالات کا سامنا رہا اور ان میں سب سے سنگین مسئلہ امن وامان کا ہے، اگر معتدل اور ہموار حالات میں ترقی کی بات ہوتی تو ممکن ہے کہ ملت کا حال اس سے بہتر ہوتا، لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ ملت کی توجہ اور مال ودولت کا بڑا حصہ بدامنی کی نذر ہوجاتا ہے اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کے بجائے اندیشوں اور مایوسیوں کے ماحول میں لوگ سہمے سہمے کام کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ محنت ، توجہ اور دولت صرف کرنے کے باوجود حاصل کم نکلتا ہے۔
مسلمانوں کی تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لئے دینی و دنیوی دونوں طرح کی تعلیم کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ دونوں کے تقاضے اور مقاصد الگ الگ ہیں اور دونوں میں ملت کی پیش رفت بھی مختلف ہے۔
دینی تعلیم میں جو پیش رفت ہوئی ہے اسے مجموعی طور پر بہتر کہا جاسکتا ہے اور بالخصوص ظاہری لحاظ سے یہ پیش رفت قابل اطمینان نظر آتی ہے، کیونکہ عرب ممالک سے مسلمانوں کے تعلقات کی استواری کے بعد دینی تعلیمی اداروں کو مالی تعاون حاصل ہوا ہے، جس کے سبب ان اداروں کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے اور عمارتوں اور مدرسین کی تنخواہو کا معیار بہتر ہوا ہے، بہت سے جدید تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں اور قدیم اداروں نے اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔
ظاہری حیثیت سے دینی تعلیم میں پیش رفت کے تذکرہ کے بعد اس کی معنوی حیثیت پر ایک نظر ضروری ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ انسان باطن کے مقابلہ میں ظاہر پر توجہ کم دیتا ہے، یہ چیزیہاں بھی نظر آتی ہے، یعنی آزادی کے بعد دینی مدارس نے اپنی ظاہری حالت جس حد تک سدھاری ہے، اتنا سدھار معنوی حالت میں نہیں ہوا ہے، موجودہ دور میں جس اعلیٰ تعلیمی معیار، بالغ نظر علماء، مدلل و دل کش دینی لٹریچر اور مؤثر انداز تبلیغ کی ضرورت ہے وہ ان مدارس سے پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ شاہ بانو کیس کے بعد مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی سماجی اصلاح کا خیال ضرور پیدا ہوا ہے، لیکن یہ خیال کمزور اور وقتی دباؤ کے اثر جیسا محسوس ہوتا ہے۔
مدارس کے تئیں یہ احساس عام ہے کہ انہوں نے دینی تعلیم کے میدان میں تعلیم و اشاعت کے جدید ذرائع سے فائدہ نہیں حاصل کیا اور تعلیمی نظام میں ایسی سبیل نہیں پیدا کی جس سے لوگوں کی دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہو۔ جنگ آزادی کی تاریخ میں ہمیں علماء کی بڑی تعداد نظر آتی ہے، انہوں نے پوری بصیرت و ہمت کے ساتھ سیاسی میدان میں مسلم عوام کی قیادت کی اور انہیں اسلام سے وابستہ رہتے ہوئے انگریزوں کے مقابلہ اور ملحد مغربی تہذیب سے دور رہنے کی ترغیب دی۔ تحریک شہیدین (سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ) اور علماء صادق پور کے حالات کا مطالعہ کرنے سے نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کی ہر نوعیت کی رہنمائی کو ان علماء نے ضروری قرار دیا تھا اور اکثر علماء اس میں عملی طور پر شریک تھے۔لیکن آزادی کے بعد علماء کا کردار اتنا مؤثر نظر نہیں آتا، مسائل تو متعدد اور ہر نوعیت کے ہیں، لیکن میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے علماء موجود نہیں، ان کا دائرہ کار تعلیمی میدان تک محدود ہے اور بہت محدود طور پر وہ عام دینی مسائل میں رائے دیتے ہیں، لیکن سیاست و اقتصاد سے متعلق ان کا کردار ناقابل ذکر ہے۔ اس خلاء کی وجہ سے ہماری سیاست اور اقتصاد دونوں پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا ہے جو مستقبل میں برے نتائج پیدا کرے گا۔ مسلمانوں کی رہنمائی کے فرض سے علماء کی علیحدگی کے نتیجہ میں مسلمانوں کی سیاسی واقتصادی قیادت کے لئے جو لوگ میدان میں آئے وہ اپنے فرض کو پورے طور پر ادا نہیں کرپا رہے ہیں،یا کسی اور سبب سے ان کی قیادت کامیاب نہیں ہے۔
دانشوروں میں ترقی کے موضوع پر سید حامد صاحب کے خیال سے واقفیت بے محل نہ ہوگی، موصوف نے حج ہاؤس ممبئی میں اکتوبر ۲۰۰۰ء میں ’’اکیسویں صدی میں سماجی خدمات: چیلنج و ترجیحات اسلامی نقطۂ نظر میں‘‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو ۴؍خارجی اور ۲؍داخلی خطروں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰؍ویں صدی میں دنیا کی برق رفتارترقی میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا اور وہ ہر طرح سے پسماندہ رہ گئے ہیں، وہ سر اٹھا کر نہیں چل پارہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی زبوں حالی پر غور کرنے کے لئے ماضی میں سیمینار اور اجلاس منعقد کئے گئے لیکن اس کے بعد عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور اس کے سبب ان اجتماعات کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ہے۔
سید حامد نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کا جواب عداوت سے نہیں دینا چاہئے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہتر سلوک سے دل بدل جاتے ہیں اور خدمت خلق کا جذبہ سبھی کے لئے ہونا چاہئے، اس میں تفریق نہ کی جائے۔
انہوں نے معاشرے میں فحاشی اور عریانیت کے اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے فتنے ہیں جن سے ہمارے نوجوانوں کو دور رکھنا ہوگا، ان فتنوں کے علاوہ ۲؍ایسے خطرے ہیں جو مسلم معاشرے کے داخلی خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔
سید حامد نے داخلی خطرات میں مسلکی اختلافات کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اختلافات شرمناک ہیں، اسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اختلافات ممبئی، حیدرآباد،دہلی وغیرہ سے نکل کر برمنگھم اور شکاگو تک پہنچ گئے، اس کا حل یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کریں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں، انہوں نے شمالی ہندمیں برادری واد کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ اہل سیاست اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں کامیاب ہونے نہیں دینا چاہئے۔
جامعہ ہمدرد کے چانسلر نے کہا کہ رائے عامہ نہ ہونے کی سزا بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے، اس کی وجہ سے ارباب اقتدار پر مسلمانوں کی بات کا وزن نہیں پڑتا، اپنی بات منوانے کے لئے رائے عامہ بنانا نہایت ضروری ہے، اس کے لئے ایک عرصہ قبل مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالی گئی مگر اختلافات نے اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔
انہوں نے اچھی اور مؤثر قیادت کے فقدان کا ایک سبب یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے قیادت کو ہمیشہ شک وشبہ کی نظر سے دیکھا ہے، اچھی قیادت کے لئے انہیں اپنے قائدپر اعتماد کرنا ہوگا اور اس کی نیت پر شبہ نہ کیا جانا چاہئے، اس کے علاوہ ہمیں ادارے چلانے کا شعور نہیں ہے، جو بدنظمی کے ساتھ ساتھ بھائی بھتیجہ واد کا شکار ہیں۔ سید حامد نے تعلیم سے کنارہ کشی کو مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ ایک انگریز مورخ کا کہنا ہے کہ ۸ویں صدی سے ۱۳ویں صدی تک سائنسی ایجاد مسلمانوں نے کی ہیں، آج نوبدھسٹ اور مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، اس لئے اب ہمیں ناخواندگی دور کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے، اس میدان میں خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا چاہئے، تعلیم کے سلسلے میں جدید تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی تو مسلمان کافی پچھڑ جائیں گے۔
حفظان صحت اور اصلاح معاشرہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سید حامد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس تعلق سے چلائی جانے والی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کو اس پوزیشن میں ہونا چاہئے کہ اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکیں، اس کے لئے وطن کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہوا، کیونکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی کسی مذہب کی معلومات کے لئے اس کا مطالعہ نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کے ماننے والوں کی عادات اور اخلاق پر نظر رکھتا ہے۔
ان سطور کے اخیر میں عرض کرنا ضروری ہے کہ ملی ترقی مسلسل عمل واستقلال و پامردی اور امید و حوصلہ کا متقاضی ہے، اگر ملت ان اوصاف کو اپنے اندر پیداکرلے اور نیت کی درستگی کے ساتھ کام شروع کردے تو ناکامی کی کوئی وجہ نہیں، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)