Articles on Dr.Muqtada Hasan Azhari



شعورو آگہی عبداللہ مدنی جھنڈانگری

سرزمین جامعہ کے آسمان ذی وقار


علامہ ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ


گذشتہ چالیس برسوں سے جامعہ سلفیہ بنارس کے درودیوار پر جس شخصیت کی چھاپ سب سے زیادہ نمایاں اور روشن نظر
آتی ہے وہ بلاشبہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ کی ذات والا صفات ہے، جن کی زندگی کی ہر ساعت صرف اور صرف جامعہ سے منسوب رہی، آپ جس وقت جامعہ تشریف لائے، وہ ابتدائی ایام تھے، اساتذہ کرام کی بالیاقت جماعت موجود تھی، جن سے آپ کو حوصلہ ملا، منتظمین جامعہ نے تشجیع کی، آپ نے قدم آگے بڑھائے، مختلف شعبہ جات کی نگہداشت کی، بحیثیت وکیل الجامعہ، جامعہ کے تعلقات ذی علم شخصیات اور تعلیمی و رفاہی جامعات و جمعیات سے استوار کئے، شعبہ اشاعت کو امتیاز بخشا، سیکڑوں کتب کی اشاعت کے لئے راہ ہموار کی گئی، ان پر مقدمات لکھے اور اس باب میں وہ کارنامہ انجام دیا جس کی مثال برصغیر کی اردو دینی دنیا میں مفقود ہے، ’’مجلہ صوت الامۃ‘‘ کی ادارت آپ کے ہاتھوں میں آئی، جس کے اوراق پر آپ کے علمی نقوش ثبت ہوتے رہے، طلبۂ جامعہ کی تربیت کے باب میں حضرت ازہریؔ رحمہ اللہ کا ایک خاص انداز تھا، وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنیاد پر طلبہ سے بے تکلف ہوہی نہیں سکتے تھے، اسی لئے ان کی موجودگی میں مجلس کا وزن قائم اور اعتبار ووقار باقی رہتا۔


آپ نے ہندوبیرون ہند مختلف ممالک کے ایشیائی اور عالمی اجتماعات اور کانفرنسز میں شرکت کی، بعض مقامات پر راقم الحروف کو بھی ساتھ رہنے کے مواقع میسر آئے، میں نے ہر جگہ اس مہر درخشاں کی ضیاباری کا احساس کیا،جامعۃ الامام البخاری، کشن گنج بہار کے ایک تعلیمی پروگرام میں موصوف رحمہ اللہ نے اپنا گراں قدر علمی مقالہ پیش فرمایا، مہمان خصوصی عالی جناب ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی گورنر صوبہ بہار تھے، جنھوں نے ہمت افزائی فرماتے ہوئے ڈاکٹر صاحب موصوف رحمہ اللہ سے مقالہ کی ایک کاپی بھی طلب کی، تاکہ بعد میں مستفید ہوسکیں۔


مکہ کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ایک خاص جماعتی نشست میں جماعت کی بے حد اہم مگر انتہائی متنازع شخصیت نے اپنے زور بیان کا مظاہرہ کرنا چاہا، وہاں میری آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ دیگر جماعتی اکابر کی موجودگی میں علامہ ازہریؔ نے جس طرح اپنی قوت گویائی کا اظہار فرمایا کہ اپنی طلاقت لسانی اور شعلہ مقالی کے باوجود روبرو ہونے والی وہ شخصیت مسکت جواب سن کر خاموش ہوگئی،اس طرح یہ مختصرمگر پروقار مجلس انتشار سے محفوظ رہی۔اس کے برعکس ان کی زندگی کا یہ دوسرا رخ بھی قابل ملاحظہ ہے،جماعت کی قدیم ترین دینی درس گاہ جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار میں ایک اجتماع کے بعد نشست میں چند اہل علم حاضر تھے، حضرت علامہ ازہریؔ رحمہ اللہ کے ساتھ جماعت کی ممتاز و بے باک ہستی بھی وہاں موجود تھی، یہ ہستی تھی مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب رحمانی رحمہ اللہ کی۔مولانا رحمانی نے مصر کی تعلیم و ثقافت اور علمی ماحول پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں نے دکتوراہ دکتوراہ کی رٹ لگا رکھی ہے ، مگر یہ جان لیں شیخ الحدیث احمد اللہ پرتابگڈھی کی سند سے زیادہ معتبر یہ ڈگری نہیں ہوسکتی۔ بات علمی وقار کی تھی، مگر حضرت ازہریؔ نے اس بزرگ عالم دین کے اس تبصرے پر مکمل خاکسارانہ سکوت اختیار کرلیا، مجھے محسوس ہوا کہ ازہریؔ صاحب رحمہ اللہ کی خاموشی باکمال خرقہ پوش کے دل میں روشن قندیل ایمانی کی غیر ملفوظ داد دے رہی ہے۔ہمارے بزرگوں کا اپنے اکابر کے ساتھ یہی وہ متواضعانہ انداز تھا جو ان کی عظمتوں کو نکھارنے میں معاون ہواکرتا تھا۔ جسے موجودہ نسل بڑی حد تک نظر انداز کر چکی ہے۔


ان کے سامنے زندگی کا ایک مقصد تھا، جس کی تکمیل میں منہمک رہے، کتابیں تصنیف کیں، ترجمے کئے، اداریئے لکھے، مقالات تحریر کئے، صدارتی خطبات سے دلوں کو گرمایا، تدریس کے لئے مسند درس پر رونق افروز ہوئے، علمی نکات کے موتی لٹائے، ضیوف و زائرین کو جامعہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، اس کی اہمیت بتائی، علمی سمینار اور اجتماعات منعقد کئے، ان کی نگرانی فرمائی، غیر ملکی سفر میں جامعہ کی نمائندگی بھی ہوئی اور سلفی فکر کی ترجمانی بھی۔یہ بھی رب العالمین کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ جو شیخ ازہریؔ جماعتی تگ وتاز سے بیگانہ تھے وہ انہی کے بقول اللہ نے ان کا رخ جماعت کی طرف موڑ دیا، جب انہوں نے شیخ الحدیث علامہ محمد اسماعیل سلفی، گجرنوالہ کی شہکار تصنیف ’’تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کے تجدیدی مساعی ‘‘کے عربی ترجمہ کا آغاز کیا،اس کتاب نے حضرۃ الدکتور کے اندر خوشگوار تبدیلی پیدا کی، جس کے اثرات تمام عمر ظاہر ہوئے، ان کے اعمال جس پر شاہد ہیں، ۔


ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی زندگی میں جلالی پہلو غالب رہا، بالعموم لوگ ان سے خائف رہا کرتے تھے،دوران صلاۃ صف میں جس جگہ وہ کھڑے ہوتے طلبہ ان کے بغل میں کھڑے ہونے سے گھبراتے تھے۔ موصوف کی زندگی کا یہ وہ پہلو تھا جس کے بسبب بہتوں کو ان سے ممکن ہے شکایت بھی رہی ہو، کہ آپ کم آمیز تھے، ہم نشینی کے زیادہ مواقع نہیں فراہم کرتے، یا یہ کہ طرز کلام میں بہت زیادہ مٹھاس نہیں تھی، پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ وہ تلخ کلام بہر حال نہیں تھے، کہ ہر مخاطب شکایت کرتا ہوا نظر آئے۔


دراصل مقصد سے لگاؤ کبھی کبھی عظیم شخصیات کو بھی یہ انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر آنے جانے والے کے ساتھ بے تکلف ہونے لگے، یا اپنا قیمتی وقت پر تکلف ضیافت میں صرف کرتا رہے تو گراں قدر علمی خدمات کی انجام دہی سے قاصر رہ جائے گا۔ ازہریؔ صاحب رحمہ اللہ سے شاکی رہنے والے ہمارے جملہ خرد وبزرگ اگر اس تاویل کی حقیقت کا ادراک کرلیں تو ان شاء اللہ ان کی شکایت رفع ہوجائے گی۔


ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ اپنے تمام تر علمی و فکری اشتعال کے باوجود خشک نثری مؤلف بن کے نہیں رہ گئے تھے، انہیں منظوم کلام سے بھی لگاؤ تھا، وہ اچھے اشعار پڑھتے ،ان سے استدلال کرتے اور ان کی داد بھی دیتے تھے، حضرت فضاؔ ابن فیضی، جناب نسیمؔ بنارسی وحیرتؔ بستوی صاحبان کے کلام پر ان کے تبصرے قابل ذکر ہیں،دوران سفر ایک بار میں نے شام کے وقت خوش نما مناظر سے مسحور ہوکر پہاڑ کی چوٹیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ساحرؔ کی مشہور نظم کا ایک مصرع الٹا پڑھ دیا: سرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے۔فرمایا:میاں! چمپئی اجالا ہے سرمئی اندھیرا ہے۔طبقۂ مشائخ میں بروقت ایسی گرفت کرنے والے کمیاب ہیں۔


مختلف اورمتنوع خصوصیات وامتیازات کی حامل شخصیت کی وفات ملت اسلامیہ کا ایک المناک سانحہ ہے، بالخصوص ہماری مادر علمی جامعہ سلفیہ بنارس کو شدید دھچکا پہونچا ہے اور ہماری جماعت اپنے ایک عظیم صاحب فکر عالم دین سے محروم ہوگئی ہے۔اللہ اس خلا کو پُر فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے۔اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ


حضرت ازہریؔ رحمہ اللہ کی حیات پہ مشتمل یہ اشاعت خاص پیش کرتے ہوئے ہم رب العالمین کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں یہ توفیق عنایت فرمائی۔



مولانا عُزیراحمدکتاب اللہ سلفیؔ
استاد جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم ڈمریا گنج
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
اوران کی کتاب’’خاتون اسلام‘‘ایک نظرمیں
الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم أمابعد!
’’خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘ کے مصداق ،اللہ جل شانہ نے محترم ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری علیہ الرحمۃ میں بڑی خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں، آپ بیک وقت عظیم مدرس ومحقق، معتبرادیب واسکالر، بے باک صحافی ومصنف، کامیاب مترجم وانشاء پرداز اورممتاز مربی ومفکرتھے، عربی واردوزبان پرکامل دسترس اورمکمل مہارت رکھتے تھے، تصنیف وتالیف ، ترجمہ وتحقیق کابڑا صاف وستھرا ذوق تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے قلم سیال سے دودرجن سے زائد ترجمے وکتابیں شائع ہوکر مقبول عام وخاص ہوچکی ہیں جبکہ متنوع اداریوں، فکرانگیز مضامین اورتحقیقی نگارشات کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اورمؤلفین ومترجمین کی کتابوں پرمقدمے اورتقریظات کم وبیش پانچ سوہیں۔
*اردوزبان وادب میں آپ نے قرآن وحدیث، مساجد ومدارس، دین ودعوت، توحید وتعلیم، عبادات ومعاملات، حقوق وفرائض، ادب وانشاء، سیاست وسماج وغیرہ جیسے عناوین وموضوعات پربڑی مفید اور انیق مقالات ومضامین قلم بند کئے ہیں جن کے مطالعہ سے آپ کی قلمی لیاقت وصلاحیت اورتحریری سرگرمی وذوق کا پتہ چلتاہے۔
*یوں تو اردوزبان میں آپ کی مستقل تصانیف کی تعداد ترجمے ومقالات سے کم ہیں مگرجوہیں وہ اپنے موضوع پربڑی منفرد، سنجیدہ، تحقیقی اورتاریخی ہیں،چنانچہ زیرتعارف کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اسی سلسلہ کی ایک بہترین کڑی ہے جسے عصرحاضر کے ایک حساس اورزندہ موضوع پرایک شاندار شاہکار اورگرانقدر تالیف کا درجہ حاصل ہے ملاحظہ فرمائیں کتاب کامختصر تعارف وسرسری جائزہ اور اندازہ لگائیں اس کی ضرورت ومقصدیت اورقدروحیثیت کا۔
۱:۔کذب واتہام، تحریف وتلبیس اورتزویر وپروپیگنڈہ بندی کے اس دورمیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلام اوراحکام اسلام کے بارے میں نت نئے اعتراضات اورشبہات بڑے زور وشورسے کئے جارہے ہیں، ان میں یہ بات بڑی طاقت سے کہی جاتی ہے کہ اسلام میں ’’عورت‘‘کی کوئی حیثیت نہیں اورنہ ہی اسے کوئی اختیار وحقوق حاصل ہیں۔
مذکورہ کتاب کی دوسری وتیسری فصل اسی باطل پروپیگنڈہ کی تردید اوراسی غلط فہمی کے ازالے کے لئے تحریر کی گئی ہے اورعورت کی انسانی، مذہبی، معاشرتی، معاملاتی اورسیاسی حیثیت وغیرہ عناوین کے ذریعہ بڑے وثوق کے ساتھ یہ بتایاگیا ہے کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کواونچا مقام عطاکیاہے اوربحیثیت انسانی جینے کے وہ تمام حقوق دیئے جوفاطرفطرت نے نظام کائنات کے لئے مقررکیاہے، عام انسانی حیثیت، عزت وکرامت اور جملہ معاملاتی امورکے اندرمردوعورت کویکساں درجہ حاصل ہے، چنانچہ ہرانصاف پسند اس بات کو تسلیم کرے گا کہ اسلام نے عزت وشان کا جوبلند مقام عورت کودیاہے وہ اپنی نظیرآپ ہے۔
مصنف علیہ الرحمہ کے الفاظ میں(۱) ’’اسلام نے عورت کو ہرجگہ عزت واحترام کی نظرسے دیکھاہے اورمردکے ساتھ اس کے تعلقات کواستوار بناکر زندگی کوسدھارنے کی راہ بتائی ہے۔
(۲) اسلام کی نظرمیں عورت جس طرح مکمل انسان ہے اسی طرح اسے جملہ شہری وسماجی حقوق حاصل ہیں۔
(۳) اسلام نے عام انسانی، معاشرتی اورمعاملاتی میدان میں عورت کو مناسب مقام پررکھا ہے اوراسے اس کے جائز حقوق سے نوازاہے۔(دیکھئے :زیرتعارف کتاب ص:۴۱)
۲:۔مذہب اسلام سے قبل دیگر ادیان ومذاہب ،مختلف تہذیبوں اورمتعددسماجی مصلحین عورت کو بڑی منحوس، گناہوں کامخزن، مکاریوں کا محل، بدگمانیوں کا ڈیرا، اورہربرائی کاپیش خیمہ تصور کرتے تھے، لوگوں کا عورت کوگری پڑی چیزسمجھنا، اس کی خرید وفروخت کرنا، ان پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنا، ان کے ساتھ نارواسلوک کرنا، انھیں کسی طرح کے شہری حق میں شامل نہ کرنا عام بات تھی۔
کتاب ہذا کی پہلی فصل میں درج ذیل عناوین’’عورت:یونانی تہذیب، رومن تہذیب، ہندی تہذیب، چینی ومصری تہذیب، یہودی ونصرانی تہذیب اورمغربی تہذیب میں،عورت بدھ و جین مذہب میں اورعورت جزیرۂ عرب میں‘‘کے حوالہ سے ثابت کیا گیاکہ اسلام سے پہلے عورت اپنے تمام حقوق وواجبات اورشرف وتکریم کے تمام مقامات سے ہمیشہ محروم رہی ہے، یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کا عتراف بہت سے انصاف پسند، تعلیم یافتہ اور غیرمسلم دانشوروں نے بھی کیاہے، جبکہ اسلام نے دیگر مذاہب وقوانین سے کہیں بہتر طورپر اس مسئلہ کاحل پیش کیاہے اورآج سے چودہ سوسال پہلے ہی اس نے عورتوں کو وہ تمام حقوق واختیارات عطا کردیئے ہیں جنھیں عورتوں نے اب جاکر حاصل کیاہے یاابھی بھی ان کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
*فرانس کے ایک اخبار’’ مانیٹر‘‘ کے الفاظ: ’’اسلام نے عورتوں کی معاشرتی حالت میں عظیم الشان اصلاح کی ہے، اس نے عورتوں کو جوقانونی حقوق دیئے ہیں وہ فرانس میں دیئے گئے حقوق سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔(خاتون اسلام ص:۸۱)
اور’’تمدن عرب‘‘ کے حوالے سے:’’اسلام نے عورتوں کے معاملہ کوسب سے زیادہ سدھارا ہے وہ پہلا مذہب ہے جس نے عورت کے درجہ کوبلندکیاہے، مشرق میں عورتوں کااحترام، ان کی تعلیم اورخوش بختی یورپ سے زیادہ ہے‘‘۔(خاتون اسلام:ص:۸۱)
*ان معلوماتی وتاریخی دستاویز کے علاوہ: عورت کی سربراہی، عورت کی ملازمت، ان کی عفت وعصمت، عورت کامثالی کردار، تعددازدواج، طلاق، رشتۂ زوجیت، اولادکی تربیت، زوجین سے متعلق احکام وآداب وغیرہ عناوین وموضوعات پرکتاب وسنت، اسلامی واقعات اورتاریخی حوالوں کی روشنی میں مصنف نے بھرپور مواد جمع کیاہے اوربڑی ذمہ داری سے اس حقیقت کوواضح کیاہے کہ عورتوں کے متعلق اسلامی احکام وقوانین پراعتراض واتہام غلط فہمی یا تعصب کے نتیجے میں وجودمیں آئے ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ محترم ڈاکٹرصاحب کی یہ کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اپنے موضوع پرایک بہترین معلوماتی وتاریخی ریکارڈ ہے جوعورتوں کے متعلق اسلام دشمن طاقتوں کے تمام الزامات واتہامات اورشکوک وشبہات کی قلعی کھولتی ہے اورساتھ ہی ساتھ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے عورت پرآزادی، معاشی استقلال اورمعاشرتی حقوق واختیارات کے باب میں کیا کیا احسانات وانعامات کئے ہیں، کتاب ڈھائی سوسے زائد صفحات اورایک مقدمہ وگیارہ فصلوں پرمشتمل ومحیط ہے، میری نظرمیں کتاب لائق مطالعہ، قابل استفادہ اورآں محترم کی اہم خدمات میں سے ایک عظیم خدمت ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ الٰہا! ان کی لغزشوں کودرگزر فرمااوراعلیٰ علیین میں مقام بلند عطافرما۔(آمین)
***